’جو چاہوں وہ پہنوں گی‘، پریانکا گاندھی کا فلسطینی بیگ لینے پر مخالفین کو جواب

منگل 17 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت میں کانگریس کی نو منتخب رکن پارلیمنٹ پریانکا گاندھی نے فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے بیگ لیا جس پر فلسطین لکھا ہوا تھا تو بی جے پی ارکان نے پریانکا گاندھی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسی حرکتیں خبروں میں رہنے کے لیے کرتی ہیں۔

پریانکا گاندھی نے اب اپنے مخالفین کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب وہ کون سے کپڑے پہنیں گی اس کا فیصلہ کون کرے گا؟ یہ پدر شاہی نظام ہے کہ خواتین وہ پہنیں جس کا فیصلہ آپ کرتے ہیں، وہ اس کو نہیں مانتیں اور وہی پہنیں گی جو وہ چاہیں گی۔

پریانکا گاندھی نے کہا کہ وہ ان خیالات کا اظہار کئی بار کر چکی ہیں اور ان کے تمام بیانات ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر موجود ہیں۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by AmazingAnnie0329 (@amazingannie0329)

واضح رہے کہ پریانکا گاندھی غزہ میں اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہیں اور نیتن یاہو کی شدید مذمت کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں غزہ میں اسرائیلی مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ غزہ میں صورتحال شرمناک اور ہولناک کے الفاظ سے آگے کی ہے۔

انہوں نے غزہ میں پناہ گزین کیمپوں، اسپتالوں اور ایمبولینسز کو بموں سے نشانہ بنانے کی مذمت کہ تھی دنیا کے مہذب ممالک کو نام نہاد قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ لوگ فلسطین میں نسل کشی کی حمایت کررہے ہیں اور اسرائیل کی مالی معاونت بھی کی جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی کی ضرورت ہے، اگر ایسا نہ کیا گیا تو عالمی برادری کے پاس کوئی اخلاقی جواز نہیں بچے گا۔

ایک اور حالیہ پوسٹ میں انہوں نے کہا تھا کہ نئے سال کی آمد پر ہمیں غزہ میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کو یاد کرنا چاہیے جو دنیا کی سب سے زیادہ ظالمانہ اور غیر انسانی حملوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ جب دنیا بھر میں بچے جشن مناتے ہیں، تب غزہ میں فلسطینی بچوں کی بے دردی سے جان لی جا رہی ہے اور دنیا کے رہنما اس ظلم کو خاموشی سے دیکھتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟