وفاقی کابینہ: بجلی کی قیمتوں میں کمی کیلئے 14 آئی پی پیز کے ساتھ نظر ثانی شدہ معاہدوں کی منظوری

منگل 14 جنوری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی کابینہ نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لیے 14 آئی پی پیز کے ساتھ نظر ثانی شدہ معاہدوں کی منظوری دے دی۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں نظر ثانی شدہ معاہدوں کی رو سے 14 آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت کے بعد مذکورہ آئی پی پیز کے منافع اور لاگت میں 802 ارب روپے کی کمی کی تجویز منظور کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں حکومت آئی پی پیز معاہدوں کی منسوخی کا فائدہ عوام کو پہنچائے ورنہ بھرپور تحریک چلائیں گے، حافظ نعیم الرحمان

کابینہ اجلاس کے اعلامیہ کے مطابق ان آئی پی پیز سے گزشتہ سالوں کے اضافی منافع کی مد میں 35 ارب روپے کی کٹوتی کی جائےگی، ان آئی پی پیز میں 10 وہ ہیں جوکہ 2002 کی پالیسی کے تحت بجلی بنا رہے تھے جبکہ 4 وہ ہیں جو 1994کی پاور پالیسی کے تحت قائم کیے گئے تھے۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اس کے علاوہ 1994 کی پالیسی کا ایک آئی پی پی کے ساتھ معاہدہ منسوخ کیا گیا ہے۔ اب تک آئی پی پیز کے ساتھ نظر ثانی شدہ معاہدوں سے حکومت کو ان معاہدوں کے قابل اطلاق رہنے تک کل 1.4 کھرب روپے کی بچت ہوگی جبکہ سالانہ 137 ارب روپے کی بچت ہوگی جس کا فائدہ صارفین کو پہنچے گا۔

اس موقع پر وزیراعظم نے کہاکہ آئی پی پیز کے ساتھ نظر ثانی شدہ معاہدے بڑی کامیابی ہے جن سے نہ صرف قومی خزانے کی بچت ہوگی، گردشی قرضہ ختم ہو گا بلکہ بجلی کی قیمت بھی کم ہو گی ۔

انہوں نے آئی پی پیز کے ساتھ کامیاب نظر ثانی شدہ معاہدوں پر وزیر توانائی، مشیر توانائی، سیکریٹری توانائی اور اس حوالے سے قائم کی گئی ٹاسک فورس کے ممبران کی کارکردگی کو سراہا۔

وفاقی کابینہ نے وفاقی حکومت کی رائیٹ سائزنگ کے حوالے سے تشکیل دی گئی کمیٹی کی سفارش پر وزارت انسداد منشیات کی وزارت داخلہ ڈویژن میں انظمام کی منظوری دے دی۔ اس انضمام کے بعد انسداد منشیات ڈویژن وزارت داخلہ کے ایک ونگ کے طور پر کام کرے گا جبکہ اینٹی نارکوٹکس فورس وزارت داخلہ کا ایک ملحقہ محکمہ (attached department) ہوگا۔

اعلامیہ کے مطابق اس انضمام سے انتظامی معاملات، تنخواہوں، دفتری دیکھ بھال کے امور اور دیگر آپریشنل خرچوں کی مد میں قومی خزانے 183.250 ملین روپے سالانہ کی بچت ہوگی۔

وفاقی کابینہ نے وفاقی حکومت کی رائیٹ سائزنگ کے حوالے سے تشکیل دی گئی کمیٹی کی سفارش پر ہوا بازی ڈویژن کی ڈیفنس ڈویژن میں انضمام کی منظوری دے دی۔

اس انضمام سے انتظامی معاملات، تنخواہوں، دفتری دیکھ بھال کے امور اور دیگر آپریشنل خرچوں کی مد میں قومی خزانے 145 ملین روپے سالانہ کی بچت ہوگی۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ 2013 تک سول ایوی ایشن کے امور وزارت دفاع کے ماتحت تھے اس لیے حکومت کی کفایت شعاری کی پالیسی کو سامنے رکھتے ہوئے ہوا بازی ڈویژن کو وزارت دفاع میں دوبارہ ضم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس اقدام سے ایئر اسپیس مینجمنٹ میں بہتری آئےگی۔

وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر پبلک پروکیورمنٹ رولز 2004 میں ایک نئے سیکشن 45 اے کے اندراج کی منظوری دے دی۔ اس سیکشن کے تحت ایک پروکیورنگ ایجنسی پروکیورمنٹ کا تمام عمل یا اس عمل کا کچھ حصہ کسی دوسری پروکیورنگ ایجنسی کے حوالے کرسکے گی۔

وفاقی کابینہ نے وزارت انسانی حقوق کی سفارش پر نیشنل کمیشن فار مائیناریٹیز ایکٹ 2024 کو پارلیمنٹ بھیجنے کی منظوری دے دی۔

یہ بھی پڑھیں کن آئی پی پیز سے معاہدہ ہوا، کیا عوام کو ریلیف ملے گا؟

وفاقی کابینہ نے وزارت قانون و انصاف کی سفارش پر ڈاکٹر محمد بشیر کی بطور ممبر ٹیکنیکل انوائرمنٹ ٹریبونل، اسلام آباد کنٹریکٹ کی بنیاد پر مدت ملازمت میں 2 سال کی توسیع کی منظوری دے دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور صومالیہ میں بحری دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

چین کی طرز پر اسلام آباد میں لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر قائم ہوگا، محسن نقوی

پاکستان اور امریکا کا دہشتگردی کے خلاف تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

خواتین نے مینگرووز کے جنگلات بحال کرکے دارالحکومت کو سمندر کے خطرات سے بچانا شروع کردیا

افغانستان دہشتگرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا، عالمی برادری مؤثر اقدامات کرے، پاکستان

ویڈیو

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

آزاد کشمیر میں اقتدار کی دوڑ تیز، ن لیگ کی سادہ اکثریت، وزارت عظمیٰ کے لیے بڑے نام سامنے آگئے

صومالی وزیرِ دفاع کی نیول اور ایئر ہیڈکوارٹرز آمد، دفاعی شراکت داری، تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ