یوریشن اوٹرز (اود بلا) کشمیر سے معدوم ہونے کے بعد دوبارہ کیسے نمودار ہوئے؟

منگل 11 فروری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایک نایاب جانور کے بارے میں، جو ایک عرصے کے بعد کشمیر کی گریز وادی میں دوبارہ نظر آ رہا ہے۔ یہ جانور ہے یوریشن اوٹر (اود بلا)۔

حال ہی میں یوریشن اوٹرز کو وادی کشمیر میں کشن گنگا دریا کے کنارے پر ٹراؤٹ مچھلی کھاتے ہوئے دیکھا گیا۔ 27 اور 28 جنوری 2025 کو گریز کے رہائشی، واجد منور شاہنگرو نے 3 اوٹرز کو دریا کے کنارے مچھلی کھاتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے اس منظر کی ویڈیو بنائی اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کردی۔یہ گزشتہ کئی دہائیوں میں اوٹرز کی پہلی ویڈیو ہے جو اس علاقے میں بنائی گئی۔

اگست 2023 میں شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگری کلچر اینڈ سائنس اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے محققین نے گریز کے علاقے تاربل میں کیمرہ ٹریپس نصب کیے تھے، جہاں 2 یوریشن اوٹرز کی تصاویر ریکارڈ ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیےسائنسدانوں نے 27 کے قریب جنگلی اور آبی حیات کی نئی اقسام دریافت کر لیں

اس سے پہلے، ان اوٹرز کو 2001-2002 کے درمیان گریز کے علاقے میں دیکھا گیا تھا۔ 25 سے 30 سال پہلے، یوریشن اوٹرز وادی کشمیر کی لدر اور جہلم وادیوں سے لے کر وولر جھیل تک بکثرت پائے جاتے تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تعداد کم ہوتی گئی۔ اب وہ شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں۔

یاد رہے کہ اس جانور کو مقامی طور پر ‘وودر’ یا ‘آب وودر’ کہا جاتا ہے۔ اس جانور کی معدومیت کی سب سے بڑی وجہ مسکن کی تباہی، آلودگی، اور بڑھتی ہوئی انسانی مداخلت تھی۔

گریز کا علاقہ لائن آف کنٹرول کے قریب واقع ہے، جہاں 1990 سے 2021 تک گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ چلتا رہا، اس سے بھی ماحول اور جنگلی حیات پر بہت بُرا اثر پڑا۔

اود بلا  کی واپسی کیوں ہوئی؟

ماہرین کہتے ہیں کہ گریز میں اوٹرز کا دوبارہ نمودار ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ یہاں کے قدرتی ماحول میں بہتری آئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آبی ماحولیاتی نظام میں ایک تبدیلی آئی ہے۔

اکتوبر 2020 میں ایک مختصر کیمرہ ٹریپ میں نیرو اسٹریم، جو چناب دریا کی بائیں جانب کی معاون ندی ہے، میں 3 یوریشین اوٹرز کو دیکھا گیا۔ اسی طرح 2015 میں لداخ میں اوٹر کے لیے پہلا منظم سروے کیا گیا۔

یہ سروے لداخ اور کرگل اضلاع میں اُپر انڈس دریا اور اس کی متعدد معاون ندیوں میں کیا گیا۔ یہ سروے 25 اگست سے 30 اکتوبر 2015 تک کیا گیا۔ سروے میں 4  میں سے 2 دریاؤں میں اوٹرز کی موجودگی کا پتہ چلا، لیکن اوٹرز کی تعداد کم تھی۔ اس کمی کی وجہ سے انسانی مداخلت، مویشیوں کا چرنا اور کتوں کی موجودگی بتائی گئی۔

یہ بھی پڑھیےگلگت بلتستان: بلیوشیپ ایوارڈ حاصل کرنے والے افسر کمال الدین جنگلی حیات کا تحفظ کیسے کرتے ہیں؟

یوریشین اوٹر لداخ، جموں و کشمیر، ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ کے علاوہ شمال مشرقی ہمالیائی پہاڑی دامن اور وسطی و جنوبی بھارت کے کچھ حصوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ بھارت کے علاوہ یہ  پاکستان، بھوٹان اور نیپال میں بھی  پائے جاتے ہیں۔

یوریشن اوٹر نایاب جانور ہے جس کی وجہ سے عالمی اتحاد برائے تحفظ فطرت (آئی یو سی این) کی ریڈ لسٹ میں جانوروں کے اس درجے میں رکھا گیا ہے جن کو خطرات لاحق ہیں۔ یہ بین الاقوامی تجارت برائے خطرات سے دوچار جنگلی حیات و نباتات کے تحفظ کے کنونشن (سی آئی ٹی ای ایس) میں بھی درج ہے۔

یہ ایک کثیرالملکی معاہدہ ہے جو خطرے سے دوچار جانوروں اور پودوں کی بین الاقوامی تجارت کو باقاعدہ بناتا ہے۔ اس کے تحت خطرے سے دوچار انواع کی بین الاقوامی تجارت پر پابندی عائد کی جاتی ہے یا ان کی تجارت کو محدود کیا جاتا ہے۔

یوریشین اوٹر کی لمبی اور نرم پشم والی کھال، پتلا اور مضبوط جسم، اور پانی میں تیرنے کے لیے موزوں پاؤں ہوتے ہیں۔ اس کا جسم تقریباً 60 سے 90 سینٹی میٹر تک ہوتا ہے اور اس کی دم کی لمبائی 30 سے 40 سینٹی میٹر کے درمیان ہوتی ہے۔

اوٹر کی کھال اس کے جسم کو سردی اور نمی سے بچانے میں مدد دیتی ہے۔ اس کی ساخت اسے پانی کے نیچے تیز رفتاری سے حرکت کرنے کے قابل بناتی ہے۔

 یہ دریاؤں، جھیلوں اور دیگر آبی وسائل میں مچھلیوں، کیڑے مکوڑوں اور دیگر آبی جانداروں کا شکار کرتا ہے۔ ان کا شکار کرنے کا طریقہ انتہائی مہارت کا حامل ہوتا ہے۔ یہ تیراکی میں ماہر ہوتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp