گلگت میں غیرمتوقع واقعہ رونما، پولیس کے خلاف سیاحوں کو لوٹنے کی شکایت درج

بدھ 12 فروری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گلگت بلتستان میں گزشتہ روز ایک سنگین اور حیران کن واقعہ پیش آیا جب کراچی سے آئے سیاحوں نے جب گلگت بلتستان پولیس کے خلاف لوٹ مار کی رپورٹ درج کرائی۔

سیاحوں نے الزام لگایا کہ رات 3 بجے جٹیال ناکے پر موجود پولیس اہلکاروں  نے ناکے پر شہریوں کو لوٹ لیا۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا گلگت بلتستان جانے والے سیاحوں پر ٹیکس لگانے کا منصوبہ

ایف آئی آر کے مطابق گلگت شہر کے ایک مصروف مقام پر معمول کی چیکنگ کے لیے پولیس کا ناکہ لگا ہوا تھا جہاں پولیس وردی میں ملبوس مسلح افراد موجود تھے جنہوں نے  نہ صرف شہریوں سے نقدی چھینی بلکہ انہیں دھمکایا اور ان سے اسلحہ چھیننے کی بھی کوشش کی۔

گلگت بلتستان پولیس جہاں اپنی مہمان نوازی اور کارکردگی  کی وجہ سے پاکستان بھر کے لیے ایک مثال ہے وہیں اس انوکھے واقعے کے باعث ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقع ہے کہ باوردی محافظوں نے خود واردات کردی اور ان کے خلاف رپورٹ درج ہوئی۔ مگر گلگت بلتستان جیسے حساس اور پرامن خطے میں یہ انتہائی تشویشناک بات ہے۔

مزید پڑھیے: ناقص تعلیمی نتائج کے بعد گلگت بلتستان حکومت نے وفاق سے تعاون طلب کرلیا

اگر یہ واردات واقعی پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں انجام دی گئی ہے تو یہ نہ صرف محکمہ پولیس بلکہ پورے قانون نافذ کرنے والے نظام پر ایک بدنما داغ ہوگا۔

ایک طرف عوام اپنی حفاظت کے لیے پولیس پر بھروسہ کرتے ہیں تو دوسری طرف اگر یہی ادارہ جرائم میں ملوث پایا گیا تو اس کا اثر مجموعی امن و امان کی صورتحال پر بھی پڑ سکتا ہے۔

عوام کی طرف سے بھی مختلف سوالات جنم لے رہے ہیں اور پولیس بھرتیوں کی میرٹ اور ان کے ریکارڈ کے حوالے سے بھی سوالات جنم لے رہے ہیں۔

ایس ایس پی گلگت راجا حسن نے وی نیوز کو بتایا کہ سیاحوں شکایت پر مذکورہ وقت پر موجود جٹیال ناکے پر موجود 3 پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے انہیں گرفتار کرلیا گیا ہے اور ان سے تفتیش کی جارہی ہے۔

راجا حسن نے کہا کہ تحقیقات کے بعد ہی پتا چل سکے گا کہ آیا پولیس اہلکاروں کے خلاف وہ شکایت درست ہے یا نہیں۔

دوسری جانب عوام کا مطالبہ ہے کہ اس معاملے پر اعلیٰ سطحی تحقیقات کی اشد ضرورت ہے۔ گلگت بلتستان حکومت اور محکمہ پولیس کو فوری طور پر شفاف انکوائری کروانی چاہیے اور اگر کوئی بھی پولیس اہلکار اس جرم میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ علاوہ ازیں پولیس کے نظام میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ پولیس ہی ہماری محافظ ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا ایسا علاقہ جو 14 اگست 1947 کے ایک سال بعد آزاد ہوا

اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر عوامی غم و غصہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہری اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ اگر پولیس خود قانون توڑنے والوں میں شامل ہو جائے تو عام شہری کہاں جائیں؟

گلگت بلتستان میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ عوام کا اعتماد پولیس پر بحال ہو اور یہ تب ہی ممکن ہوگا جب اس کیس میں شفافیت اور غیرجانبداری کے ساتھ انصاف کیا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جنگ بندی ختم ہونے میں چند گھنٹے باقی، کچھ بڑا ہونے والا ہے، ٹرمپ کی ایرانی قیادت سے ملنے کی خواہش

2025 کے سیلاب نے پاکستان کے 33 لاکھ سے زائد افراد کے روزگار پر پانی پھیر دیا

پی ایس ایل 11: راولپنڈیز کا ملتان سلطانز کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ

امریکا میں موسم  بہار کے دوران برفانی طوفان کی وارننگ، درجہ حرارت میں 50 ڈگری تک کمی کا امکان

وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی نیتالی بیکر سے ملاقات، ایران امریکا جنگ بندی میں توسیع پر تبادلہ خیال

ویڈیو

جنگ بندی ختم ہونے میں چند گھنٹے باقی، کچھ بڑا ہونے والا ہے، ٹرمپ کی ایرانی قیادت سے ملنے کی خواہش

لائیوامریکا ایران جنگ بندی مذاکرات کے امکانات قوی تر، دونوں ممالک نے پاکستان دوبارہ آنے کا عندیہ دے دیا

لائیوجے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد ایران سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد روانہ ہوگیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

کالم / تجزیہ

علامہ اقبال اور پاکستان پوسٹ

اسرائیل کا مسئلہ کیا ہے؟

ایک اور ایک گیارہ سے نو دو گیارہ