پشاور کے نوجوان نے دوران حج سینکڑوں زندگیاں کیسے بچائیں؟

پیر 24 فروری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پشاور کے رہائشی آصف بشیر سال 2024 میں حج کے دوران خادم کے طور پر کام کر رہے تھے. عرفات کے میدان میں جب 20 لاکھ کے قریب لوگ مناسک حج ادا کرنے پہنچے تو ان میں ہندستانی اور برطانوی قومیت رکھنے والے مسلمان بھی موجود تھے۔ جون جولائی کی سخت گرمی میں جب عازمین حج کی طبیعت خراب ہوئی اور وہ بے ہوش ہونے لگے تو آصف بشیر نے ان ہندوستانی اور برطانوی قومیت رکھنے والے مسلمانوں کو اپنے کندھے پر اٹھا کہ پیدل 4 کلو میٹر کا سفر کیا اور ان کو اسپتال منتقل کیا، اس طرح آصف بشیر نے تقریباً 400 ہندوستانی اور برطانوی قومیت رکھنے والے مسلمانوں کی جان بچائی۔

ان کی اس خدمت ک اعتراف میں اب ان کو بھارت بلایا گیا ہے اور ان کو بھارتی حکومت کی جانب سے ’جیون رکھشک‘ ایوارڈ دیا جائے گا۔ اس کے بعد ان کو برطانوی حکومت کی جانب سے کنگ جینٹری ایوارڈ بھی دیا جائے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کو بھارت میں لوگ پاکستانی بجرنگی بھائی جان کے نام سے پکار رہے ہیں۔ یاد رہے کہ باچا خان کے بعد آصف بشیر دوسرے پاکستانی ہوں گے  جنہیں بھارتی سرکار کی جانب سے کسی ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لبنان جنگ بندی، مشرق وسطیٰ میں امن چاہتے ہیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بہترین سپہ سالار، قریبی دوست ہیں، جے ڈی وینس

صدر ٹرمپ کی مدبرانہ قیادت کے باعث امریکا ایران مذاکرات ممکن ہوئے، وزیراعظم شہباز شریف

لائیوپاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات کا سوئٹزرلینڈ میں آغاز

قاہرہ میں ریجنل-4 ممالک کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس ’اسلام آباد مفاہمی یادداشت‘ زیر بحث

مشرقِ وسطیٰ بحران کے باعث پاکستانی آم کی برآمدات متاثر، 30 فیصد کمی کا خدشہ

ویڈیو

ایران امریکا مذاکرات: وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی اور ایرانی وفود سے ملاقاتیں

پنجاب حکومت کا بڑا منصوبہ، پنجاب فلم سٹی نے پروڈکشن کے نئے دروازے کھول دیے

بلوچستان سے عالمی میدان تک، ثروت فاطمہ کا متاثر کن بیڈمنٹن سفر

کالم / تجزیہ

پاکستانی ’انا‘، ایک خاموش وبا

پاکستان: نام ہی کافی ہے

ایران امریکا معاہدے کے بعد دنیا کیسی ہوگی؟