روزہ، عبادت اور محنت: ایک کھڈی کاریگر کی کہانی

منگل 11 مارچ 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد کے ایک چھوٹے سے کونے میں کھڈی کی مخصوص آواز کے ساتھ سہیل خان اپنے ہنر کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ وہ ایک ماہر کھڈی سواتی شال کے کاریگر ہیں جو نہ صرف شالیں بلکہ روایتی طرز کے کپڑے اور قمیضیں بُننے میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔

سحری کے بعد وہ اپنے کام کی جگہ پہنچتے ہیں جہاں ہاتھوں کی محنت اور صبر کے ساتھ دھاگے آپس میں جوڑ کر ایک نئی شکل اختیار کرتے ہیں۔ روزے کی حالت میں بھی وہ اپنی لگن کو کمزور نہیں پڑنے دیتے اور گاہکوں سے خوش اخلاقی سے پیش آتے ہیں۔

کام کے دوران جب اذان کی آواز گونجتی ہے تو وہ فوری طور پر اپنے ہاتھ روک دیتے ہیں اور نماز ادا کرتے ہیں اور تلاوتِ قرآن کرتے ہیں اور پھر دوبارہ کام میں مشغول ہو جاتے ہیں۔

جیسے ہی عصر کی اذان ہوتی ہے وہ کام سمیٹ کر گھر واپس جاتے ہیں جہاں افطار کی تیاری کرتے ہیں۔ سادہ کھانا کھاتے ہیں اور اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہیں۔

سہیل خان جیسے محنت کش رمضان میں بھی نہ صرف اپنی روزی کماتے ہیں بلکہ عبادت، رزق اور روایات کے حسین امتزاج کو اپنی زندگی میں سموئے رکھتے ہیں۔ ان کا روزہ صبر، شکر اور محنت کی ایک لازوال مثال ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘