جعفر ایکسپریس حملہ: سیکیورٹی فورسز کا آپریشن مکمل، تمام دہشتگرد ہلاک، 21 مسافر اور 4 جوان شہید

بدھ 12 مارچ 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سیکیورٹی فورسز نے کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن مکمل کرتے ہوئے 33 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا، فائرنگ کے تبادلے میں ایف سی کے 4 جوان شہید ہوگئے، جبکہ دہشتگردوں نے 21 معصوم مسافروں کو بھی شہید کردیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے جعفر ایکسپریس پر حملے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ 11 مارچ کو ایک بجے بولان کے قریب ریلوے ٹریک کو پہلے دھماکے سے اڑایا گیا۔ دہشت گردوں نے بعد میں جعفر ایکسپریس کو روک کر مسافروں کو یرغمال بنایا۔

یہ بھی پڑھیں ملک میں دہشتگردی سے متعلق عمران خان کی ٹوئٹ پر محسن داوڑ کا جوابی وار

فوجی ترجمان نے کہاکہ دہشت گرد افغانستان میں اپنے سہولت کاروں سے رابطے میں تھے، سیکیورٹی فورسز نے بھرپور طریقے سے آپریشن شروع کیا اور یرغمالیوں کو بازیاب کرایا۔

انہوں نے کہاکہ وہاں پر موجود تمام 33 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز کے نشانہ بازوں نے خودکش بمباروں کو بھی ہلاک کیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ آپریشن کامیاب ہوچکا ہے اور آپریشن کےدوران کسی مسافر کو نقصان نہیں پہنچا۔ تاہم آپریشن سے پہلے دہشت گردوں نے 21 معصوم مسافروں کو شہید کیا۔

یہ بھی پڑھیں جعفر ایکسپریس حملہ : اقوام متحدہ، چین اور امریکا کی مذمت

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران 4 ایف سی کے اہلکار شہید ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز بلوچستان کے ضلع بولان میں دہشتگردوں نے کوئٹہ سے پشاور جانے والی ٹرین کو روک کر مسافروں کو یرغمال بنا لیا تھا، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے آپریشن شروع کیا جو آج مکمل ہوا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشتگردوں میں خود کش بمبار بھی شامل تھے جنہوں نے معصوم بچوں اور خواتین کو بطور انسانی ڈھال استعمال کیا، کلیئرنس آپریشن کی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دہشتگردوں نے یرغمال مسافروں کو مختلف ٹولیوں میں تقسیم کررکھا تھا۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کلیئرنس آپریشن کے بعد بازیاب یرغمال مسافروں کو پاک فوج کے جوان بحفاظت محفوظ مقام پر منتقل کر رہے ہیں۔

پاک فوج کے جوانوں نے اپنی مہارت سے ایک بھی خود کش بمبار کو پھٹنے کا موقع نہیں دیا،

یہ بھی پڑھیں مسافر ٹرینوں کو ہائی جیک کرنے اور دہشتگردی کا نشانہ بنانے کے واقعات کی تاریخ کیا ہے؟

دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

صدر مملکت آصف زرداری کا سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین

دریں اثنا صدر مملکت آصف علی زرداری نے جعفر ایکسپریس آپریشن مکمل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین کیا ہے۔

صدر مملکت آصف زرداری نے آپریشن کے دوران 21 شہریوں اور 4 ایف سی جوانوں کی شہادت پر گہرے دُکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

صدر مملکت نے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مؤثر کارروائی میں 33 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر فورسز کی بہادری کی تعریف کی۔

صدر مملکت نے شہریوں اور مسافروں کو بازیاب کرانے پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ مہارت کو سراہا، اور شہید ہونے والے 4 ایف سی جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

صدر مملکت نے آپریشن جعفر ایکسپریس کے شہدا کے لیے بلندی درجات، ورثا کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

یہ بھی پڑھیں جعفر ایکسپریس حملہ: ٹرین کا ڈرائیور معجزانہ طور پر زندہ بچ گیا

صدر مملکت نے بلوچستان میں قیامِ امن اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اظہار کیا۔

بہادر دستوں نے دہشتگرردوں کو مؤثر جواب دیا، آئی ایس پی آر

جعفر ایکسپریس میں مسافروں کو یرغمال بنانے والے دہشتگردوں کیخلاف سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی پر آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ غیر متزلزل حوصلے اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمارے بہادر دستوں نے دہشتگرردوں کو مؤثر جواب دیا اور ایک طویل، شدید اور جرأت مندانہ آپریشن کے بعد سیکیورٹی فورسز نے مرحلہ وار یرغمالیوں کو بازیاب کرتے ہوئے خودکش بمباروں سمیت تمام 33 دہشتگردوں کا کامیابی سے خاتمہ کر دیا۔

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق  اس مرحلے کے دوران، دہشتگردوں نے کلیئرنس آپریشن شروع ہونے سے پہلے ہی 21 معصوم یرغمالیوں کی جانیں لے لیں جب کہ سیکیورٹی فورسز کے 4 بہادر جوانوں نے لازوال قربانی دی اور شہادت کو گلے لگا لیا۔ ان کے بے لوث اقدامات نے بے شمار جانیں بچائیں اور مزید تباہی کو روکا۔

علاقے میں سینی ٹائزیشن آپریشن بھی کیا جا رہا ہے اور اس بزدلانہ اور گھناؤنے فعل کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

حملہ افغانستان سے کام کرنے والے دہشتگردوں نے ترتیب دیا

آئی ایس پی آر کے جاری بیان کے مطابق انٹیلی جنس رپورٹس نے واضح طور پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ حملہ افغانستان سے کام کرنے والے دہشتگردوں کے سرغنوں نے ترتیب دیا تھا اور وہ پورے واقعے کے دوران دہشتگردوں کے ساتھ براہ راست رابطے میں تھے۔ ایسے میں پاکستان توقع کرتا ہے کہ عبوری افغان حکومت اپنی ذمہ داریوں کو نبھائے گی اور پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے اپنی سرزمین کے استعمال سے انکار کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سابق بنگلہ دیشی کپتان شکیب الحسن کی رہائش گاہ پر پیٹرول بموں سے حملہ، سبب کیا بنا؟

خضدار: رشتے سے انکار پر خاندان کے 3 افراد قتل، اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے رپورٹ طلب کرلی

3 گنا قیمت، جعلی اور ایکسپائر اشیا، سلمیٰ بٹ کا موٹروے ریسٹ ایریاز پر موجود مارٹس کے خلاف سخت ایکشن

پاکستان اور صومالیہ میں بحری دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

چین کی طرز پر اسلام آباد میں لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر قائم ہوگا، محسن نقوی

ویڈیو

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

آزاد کشمیر میں اقتدار کی دوڑ تیز، ن لیگ کی سادہ اکثریت، وزارت عظمیٰ کے لیے بڑے نام سامنے آگئے

صومالی وزیرِ دفاع کی نیول اور ایئر ہیڈکوارٹرز آمد، دفاعی شراکت داری، تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ