شیطان بھی حیران ہوگا!

جمعہ 14 مارچ 2025
author image

اے وسیم خٹک، صوابی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شیطان تو رمضان میں قید کردیا جاتا ہے، مگر انسانوں کے رویے دیکھ کر ایسا نہیں لگتا کہ شیطان قید ہے۔ پشاور سمیت صوبے بھر میں پیش آنے والے چند واقعات ہماری بے حسی، سنگدلی اور اندر چھپی حیوانیت کا آئینہ ہیں۔

یہ وہ جرائم نہیں جو بڑے منصوبوں کے تحت کیے گئے ہوں، نہ ہی کوئی دیرینہ دشمنیاں تھیں، بس لمحاتی غصے، ضد، ہٹ دھرمی، اور عدم برداشت نے قیمتی جانیں لے لیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ کیا ہمارا غصہ، انا اور ہٹ دھرمی ہماری انسانیت سے بڑی ہوچکی ہے؟

کلپانی پل پر ایک خاتون نے دریا میں چھلانگ لگا دی، جس کے بعد ریسکیو 1122 کے غوطہ خور اور عام شہری اس کی تلاش میں مصروف رہے۔ زندگی کی تلخیوں سے تنگ ہو کر جان دینے کا یہ عمل صرف ایک کہانی نہیں، بلکہ اس معاشرتی المیے کی عکاسی کرتا ہے جس میں لوگ اپنی مشکلات کے حل کے بجائے موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔

پشاور کے علاقے فقیرآباد افغان کالونی میں ایک نوجوان کو مبینہ طور پر انڈے کے تنازعے پر فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا۔ ذرا سوچیے، انڈوں جیسی معمولی چیز پر ایک قیمتی جان چلی گئی، اور دو بے گناہ راہگیر زخمی ہوگئے۔ یہی نہیں، سوات کے علاقے تختہ بند میں پالتو کتے کے تنازعے پر دو فریقوں میں جھگڑا ہوا، جس کے نتیجے میں چاقو کے وار سے ایک نوجوان جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ ایک کتا زندہ رہا، مگر ایک انسان مر گیا۔ یہ کیسی حیوانیت ہے؟

نوشہرہ کے علاقے پبی میں ایک نوجوان نے محض معمولی تکرار پر اپنے ماں، باپ اور بہن کو گولیوں سے بھون ڈالا۔ کیا خون کے یہ رشتے اتنے سستے ہوگئے ہیں کہ ذرا سی بات پر انسان اپنوں کا گلا کاٹ دیتا ہے؟

پشاور کے علاقے ریگی میں تو جہالت اور وحشت کی انتہا دیکھنے کو ملی۔ ایک شخص کو وٹس ایپ گروپ سے نکال دیا گیا، اور جواباً اس نے ایڈمن کو گولی مار کر قتل کردیا۔ کیا ہم مزاح اور تلخ باتوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت بھی کھو چکے ہیں؟ کیا یہ وہی معاشرہ ہے جو رواداری، صبر اور بھائی چارے کا سبق دیتا تھا؟

یہ واقعات کوئی منفرد نہیں، یہ روزمرہ کی حقیقت ہے، جو کبھی معمولی اختلاف پر قتل و غارت میں بدل جاتی ہے، تو کبھی تضحیک اور ہتکِ عزت کے ردعمل میں جان لینے تک جا پہنچتی ہے۔

یہ وقت ہے رک کر سوچنے کا، اپنے رویوں پر غور کرنے کا، اپنی نسلوں کو صبر، برداشت اور درگزر سکھانے کا۔ ورنہ شاید وہ وقت دور نہیں جب شیطان بھی کہے گا، “میں قید ہی بھلا!

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بابر اعظم کی بیٹنگ میں تکنیکی خامی کی نشاندہی، محمد یوسف نے اہم مسئلہ بتا دیا

اسلام آباد کی خواتین کے لیے مفت اسکوٹی ٹریننگ پروگرام کا اعلان

انسٹاگرام پر 90 منٹ تک کی طویل ویڈیوز پوسٹ کرنے کا نیا فیچر متعارف

سی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور ذہنوں کو جوڑے گا، عطا اللہ تارڑ

سیکیورٹی فورسز کے 67 بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: داعش کے 50 سے زائد دہشتگرد ہلاک، 100 سے زائد گرفتار

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں