ججز سنیارٹی کیس: وفاقی حکومت کی تمام درخواستیں خارج کرنے کی استدعا

بدھ 16 اپریل 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز سنیارٹی کیس میں وفاقی حکومت نے تحریری جواب جمع کرا دیا ہے، جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز سمیت تمام درخواستیں خارج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

وفاقی حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ججز کے تبادلے آئین کے تحت مکمل شفافیت سے کیے گئے، اس عمل سے عدالتی آزادی متاثر نہیں ہوتی۔ جواب میں واضح کیا گیا کہ ججز کے تبادلے کے بعد نیا حلف لینا ضروری نہیں ہوتا کیونکہ آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت تبادلے کا مطلب نئی تعیناتی نہیں سمجھا جاتا۔

حکومتی جواب میں ججز کے تبادلے کو عارضی قرار دینے کی دلیل کو بھی ناقابل قبول قرار دیا گیا ہے، اور کہا گیا ہے کہ آئین میں کہیں بھی اس حوالے سے وضاحت موجود نہیں کہ ججز کا تبادلہ عارضی بنیادوں پر کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: صدر مملکت کے پاس ججز کے تبادلوں کا اختیار ہے، جسٹس محمد علی مظہر کے ریمارکس

حکومت نے اپنے جواب میں مؤقف اپنایا کہ جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے لیے 2 ججز تعینات کیے جبکہ 3 آسامیاں خالی چھوڑ دی گئیں۔ وزارت قانون کی جانب سے ججز کے تبادلے کی سمری 28 جنوری کو صدرِ مملکت کو ارسال کی گئی تھی۔

وفاقی حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ ججز کے تبادلے میں صدر کا کردار محدود ہوتا ہے، جبکہ اصل فیصلہ چیف جسٹس آف پاکستان، متعلقہ جج اور متعلقہ ہائیکورٹس کے چیف جسٹس کی مشاورت سے کیا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شیرانی میں مسافر بس کھائی میں گر گئی، خواتین اور بچوں سمیت 24 افراد جاں بحق، 14 زخمی

’لاہور میں ہماری بہترین مہمان نوازی کی گئی‘ عمران ہاشمی نے پاکستانیوں کی تعریفوں کے پل باندھ دیے

امریکا کی پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت، دہشتگرد حملوں کے خلاف کارروائیوں کو جائز قرار دیا

بھارتی آبی دہشتگردی کا پاکستان کیسے جواب دے؟

عامر خان نے تیسری شادی کا اعلان کردیا، شادی کب اور کہاں ہوگی اور کون لوگ مدعو ہوں گے؟

ویڈیو

کوئٹہ: گرمی کا توڑ کابلی آئس کریم کی خاص بات کیا ہے؟

بلوچستان سانحہ: گوگل پر مکمل انحصار خطرناک، دور دراز علاقوں میں آف لائن میپس اور ذاتی فیصلہ کیوں ضروری؟

سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں امن کا بنیادی ستون، بھارت یکطرفہ طور پر اسے معطل نہیں کر سکتا، احمر بلال صوفی

کالم / تجزیہ

بھارتی آبی دہشتگردی کا پاکستان کیسے جواب دے؟

بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو

دریاؤں کو بہنے دو