توانائی کے شعبے میں 4743 ارب روپے کی متوقع بچت، جلد بجلی پیداوار کے لیے ’فری مارکیٹ‘ قائم کی جائے گی، شہباز شریف

جمعرات 1 مئی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم شہباز شریف نے عندیہ دیا کہ ملک میں جلد بجلی کی پیداوار کے لیے ’فری مارکیٹ‘ کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس سے مسابقتی بنیادوں پر بجلی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی اور نرخوں میں مزید کمی آئے گی۔ وزیراعظم نے وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری اور ان کی ٹیم کو 4743 ارب روپے کی متوقع بچت پر سراہا اور اسے ایک تاریخی کامیابی قرار دیا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں بجلی کے نرخوں میں کمی اور توانائی کے شعبے میں پائیدار اصلاحات سے متعلق “Integrated Generation Capacity Expansion Plan (IGCEP) 2024-2034” پر اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔

اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بجلی کے نرخوں میں حالیہ ساڑھے 7 روپے فی یونٹ کمی کے بعد حکومت توانائی کے شعبے میں مزید پائیدار اصلاحات کے لیے مؤثر حکمت عملی پر عمل پیرا ہے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کا بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان! کس کو کتنا ریلیف ملا؟

وزیراعظم نے توانائی کی پیداوار اور پانی کے وافر ذخیرے کے لیے دیامر بھاشا ڈیم جیسے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ توانائی منصوبوں میں کسی بھی قسم کی تاخیر ناقابل قبول ہے۔

وزیراعظم نے عندیہ دیا کہ ملک میں جلد بجلی کی پیداوار کے لیے ’فری مارکیٹ‘ کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس سے مسابقتی بنیادوں پر بجلی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی اور نرخوں میں مزید کمی آئے گی۔

اجلاس میں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ ان کی ہدایت پر IGCEP کا ازسرنو جائزہ لیا گیا جس سے یہ بات سامنے آئی کہ اس پلان میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ وزارت توانائی نے دن رات محنت کرکے اسے زمینی حقائق اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق دوبارہ تیار کیا ہے۔

مزید پڑھیں: لاہور کی اسمارٹ سڑک جو بجلی بھی پیدا کرےگی

نئی حکمت عملی کے تحت آئندہ 10 برس میں بجلی کے پیداواری منصوبے مسابقتی بولی کے ذریعے اور کم ترین نرخ پر فروخت کے اصول پر ترتیب دیے گئے ہیں۔ اس میں مہنگے منصوبے جن کی پیداواری گنجائش 7967 میگا واٹ ہے، پلان سے نکالے جا رہے ہیں، جبکہ منصوبوں کی تکمیل کی تاریخوں میں بھی رد و بدل کیا جا رہا ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ان اقدامات سے مجموعی طور پر 17 ارب ڈالر (قریباً 4743 ارب روپے) کی بچت ممکن ہو گی۔ اس کے علاوہ بجلی کی پیداوار کے لیے درآمدی ایندھن کے بجائے مقامی ذخائر اور متبادل ذرائع جیسے شمسی، نیوکلیئر اور پن بجلی کو ترجیح دی جائے گی، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی نمایاں بچت ہوگی۔

وزیراعظم نے وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری اور ان کی ٹیم کو 4743 ارب روپے کی متوقع بچت پر سراہا اور اسے ایک تاریخی کامیابی قرار دیا۔ اجلاس میں سردار اویس لغاری، احد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ، علی پرویز ملک اور متعلقہ اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاک چین دوستی کے 75 سال: پاکستان 75 روپے کا خصوصی سکہ جاری کرے گا

بنگلہ دیش میں خسرہ کی ویکسین کی قلت، یونیسیف کے انتباہ کو نگران حکومت نے نظرانداز کیا

اسماعیلیوں کے روحانی پیشوا شاہ رحیم آغا خان پہلے دورے پر پاکستان پہنچ گئے، کہاں کہاں جائیں گے؟

اٹلی نے اسرائیلی رویے کو ناقابلِ قبول قرار دے دیا، صمود فلوٹیلا کے گرفتار رضاکاروں کے ساتھ برتاؤ پر معافی کا مطالبہ

ایران کے ساتھ ڈیل نہ ہوئی تو امریکا دوبارہ حملہ کر سکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو پھر وارننگ

ویڈیو

ٹرمپ کے دورۂ چین کے بعد خطے میں کسی نئی جنگ کی کوئی گنجائش نہیں: سینیٹر مشاہد حسین سید

عوام میں بجٹ ریلیف کی امیدیں بڑھ گئیں، سہیل آفریدی نے دھرنے کا راستہ کیوں بدلا؟

پاک چین دوستی علاقائی امن، ترقی اور عالمی استحکام کے لیے ناگزیر ہے، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈارکا قومی اسمبلی میں خطاب

کالم / تجزیہ

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟

وزیر آغا‘ ایک عہد جو مکالمہ بن گیا