امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ڈیل نہیں ہوتی تو امریکا دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔
واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ایران کو ایک اچھے معاہدے کی پیشکش کی ہے، ایران کے معاملے پر میرے اور نیتن یاہو کے درمیان اتفاق ہے۔
مزید پڑھیں: ایران پر حملے کا فیصلہ ایک گھنٹے میں کرنے والا تھا لیکن پھر معاملہ مؤخر کردیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
انہوں نے کہاکہ نیتن یاہو کو جو کہیں گے وہ کرےگا، ہمیں آبنائے ہرمز کھولنا پڑے گا لیکن اس میں کوئی جلدی نہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ چینی صدر سے بہت اچھی ملاقات ہوئی، اور اس دوران اہم امور پر تبادلہ خیال ہوا، شی جن پنگ اچھے آدمی ہیں۔
اس سے قبل گزشتہ روز صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ایران پر حملے کا فیصلہ کرنے ہی والے تھے کہ اس سے فقط ایک گھنٹہ قبل وہ کارروائی مؤخر کرنے کے لیے قائل ہوگئے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق منگل کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہم مکمل طور پر تیار تھے اور وہ حملہ اس وقت ہو رہا ہوتا۔
ٹرمپ کے مطابق وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا فیصلہ تقریباً کر چکے تھے جس سے امریکا اور ایران کے درمیان موجود غیر یقینی جنگ بندی باضابطہ طور پر ختم ہو جاتی۔
صدر ٹرمپ نے پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ انہوں نے منگل کے لیے مجوزہ حملہ اس لیے مؤخر کیا کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کے کئی رہنماؤں نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے باعث انہیں کچھ وقت دینے کی درخواست کی۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ معمولی نہیں وسیع تر معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، جے ڈی وینس
واضح رہے کہ پاکستان کی درخواست پر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی ہوئی تھی جو اب تک برقرار ہے۔ اور پاکستان دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔














