اسماعیلیوں کے روحانی پیشوا شاہ رحیم آغا خان پہلے دورے پر پاکستان پہنچ گئے، کہاں کہاں جائیں گے؟

بدھ 20 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

 

اسماعیلی فرقے کے روحانی پیشوا پرنس شاہ رحیم الحسینی آغا خان پنجم امامت سنبھالنے کے بعد پہلی بار پاکستان پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کی آمد پر اسلام آباد کو خیر مقدمی بینروں سے سجا دیا گیا ہے۔

پرنس رحیم آغا خان 6 روزہ سرکاری دورے پر نور خان ایئربیس پہنچے جہاں صدر مملکت آصف علی زرداری سمیت اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا۔

ذرائع کے مطابق پرنس رحیم آغا خان کی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں ہوں گی۔

حکومتی سطح پر اس دورے کو غیرمعمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں ایئرپورٹ سے شہر تک اہم شاہراہوں پر خیر مقدمی بینرز آویزاں کیے گئے ہیں، جن پر پرنس رحیم آغا خان کے ہمراہ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی تصاویر بھی نمایاں ہیں۔

پرنس رحیم آغا خان کن علاقوں کا دورہ کریں گے اور کہاں مریدوں سے ملاقات کریں گے؟

امامت سنبھالنے کے بعد اسماعیلیوں کے روحانی پیشوا اور 50 ویں امام پرنس شاہ رحیم الحسنی کا یہ پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔ دورے کے اعلان کے ساتھ ہی اسماعیلی برادری میں جشن کا سماں ہے۔ پرنس رحیم اپنے پہلے دورے کے دوران زیادہ وقت گلگت بلتستان اور چترال میں گزاریں گے۔ اسماعیلی کونسل کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق پرنس رحیم کا اسلام آباد میں ایک روزہ قیام ہے، جبکہ وہ 21 مئی سے 25 مئی تک گلگت بلتستان اور چترال میں قیام کریں گے، جہاں وہ مختلف مقامات پر اسماعیلی برادری سے ملاقاتیں اور دیدار کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:لزبن، اسماعیلی برادری کے 50ویں امام پرنس رحیم آغا خان پنجم تخت نشین ہوگئے

اسماعیلی کونسل کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق 21 مئی سے وہ گلگت بلتستان کے دورے کا آغاز کریں گے اور گلگت بلتستان کے علاقے گوپس پہنچیں گے، جہاں تاؤس میں اپنے مریدوں کو دیدار دیں گے۔ جبکہ 22 مئی کو پاسو، ہنزہ اور گاہکوچ میں، 23 مئی کو اپر چترال کے پروک لاشٹ میں، جبکہ 25 مئی کو دوبارہ پروک اور بعد ازاں گرم چشمہ، لوئر چترال میں دیدار کی تقریبات منعقد ہوں گی۔ اس دوران وہ مختلف ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ بھی لیں گے۔

اپر چترال اور گلگت بلتستان میں انتظامات کو حتمی شکل دی جا چکی ہے، جبکہ سیکیورٹی اور لاجسٹک انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ خصوصی افراد کی آمد و رفت کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ اسماعیلی کونسل کے مطابق ہر خصوصی فرد کے ساتھ چار اسماعیلی رضاکار تعینات کیے جائیں گے تاکہ انہیں آمد و واپسی تک سہولت فراہم کی جا سکے۔

ذرائع کے مطابق اس دورے کے دوران پرنس رحیم آغا خان کراچی اور اسلام آباد سمیت دیگر شہروں میں اسماعیلی برادری سے اجتماعی ملاقات نہیں کریں گے، جس کے باعث چترال اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے اسماعیلی افراد کی بڑی تعداد اپنے آبائی علاقوں کا رخ کر رہی ہے تاکہ دیدار میں شرکت کر سکے۔ گلگت بلتستان اور چترال میں ابھی سے جشن کا آغاز ہو چکا ہے اور مختلف مقامات پر گیٹس لگا کر استقبال کیا جا رہا ہے، جبکہ جگہ جگہ کیمپس قائم کیے گئے ہیں تاکہ مریدوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

سیکیورٹی اداروں نے اسلام آباد، گلگت بلتستان اور چترال سمیت تمام متوقع سفری راستوں پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں تاکہ دورہ پرامن اور خوش اسلوبی سے مکمل کیا جا سکے۔

پرنس شاہ رحیم الحسنی اسماعیلی فرقے کے 50 ویں موروثی امام ہیں، جو اپنے والد اور 49 ویں امام شاہ کریم الحسینی آغا خان چہارم کے انتقال کے بعد فروری 2025 میں امامت سنبھال چکے ہیں، اور یہ پاکستان کا ان کا بطور امام پہلا دورہ ہے۔ اس سے قبل اسماعیلیوں کے 49 ویں امام پرنس کریم آغا خان 2017 میں چترال آئے تھے اور بونی اور گرم چشمہ میں جماعت سے ملاقات کی تھی۔

پرنس شاہ رحیم الحسنی اسماعیلی فرقے کے 49 ویں امام پرنس شاہ کریم الحسنی کے بڑے صاحبزادے ہیں۔ وہ 12 اکتوبر 1971 کو جنیوا، سوئٹزرلینڈ میں پیدا ہوئے۔

پرنس رحیم نے اپنی ابتدائی تعلیم سوئٹزرلینڈ میں حاصل کی، جبکہ اعلیٰ تعلیم کے لیے انہوں نے امریکہ کی ایک معروف یونیورسٹی سے تقابلی ادب میں بیچلر ڈگری حاصل کی۔

پرنس رحیم کے دورہ پاکستان کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ چترال اور گلگت بلتستان میں مقامی آبادی کی زندگی بہتر بنانے میں ان کا اہم کردار ہے، جہاں صحت، تعلیم، سماجی بہبود اور دیگر شعبوں میں آغا خان کے ادارے سرگرم ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پانی کا بحران اور سندھ طاس معاہدہ: بھارت کے یکطرفہ اقدامات سے پاکستان کو سنگین سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا

پاک چین دوستی کے 75 سال: پاکستان 75 روپے کا خصوصی سکہ جاری کرے گا

بنگلہ دیش میں خسرہ کی ویکسین کی قلت، یونیسیف کے انتباہ کو نگران حکومت نے نظرانداز کیا

اٹلی نے اسرائیلی رویے کو ناقابلِ قبول قرار دے دیا، صمود فلوٹیلا کے گرفتار رضاکاروں کے ساتھ برتاؤ پر معافی کا مطالبہ

ایران کے ساتھ ڈیل نہ ہوئی تو امریکا دوبارہ حملہ کر سکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو پھر وارننگ

ویڈیو

ٹرمپ کے دورۂ چین کے بعد خطے میں کسی نئی جنگ کی کوئی گنجائش نہیں: سینیٹر مشاہد حسین سید

عوام میں بجٹ ریلیف کی امیدیں بڑھ گئیں، سہیل آفریدی نے دھرنے کا راستہ کیوں بدلا؟

پاک چین دوستی علاقائی امن، ترقی اور عالمی استحکام کے لیے ناگزیر ہے، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈارکا قومی اسمبلی میں خطاب

کالم / تجزیہ

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟

وزیر آغا‘ ایک عہد جو مکالمہ بن گیا