حملے کی اطلاعات تھیں مگر بچوں کو نشانہ بنانے کی توقع نہیں تھی، وزیراعلیٰ بلوچستان

بدھ 21 مئی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ خضدار میں بچوں پر حملے کی مذمت کرتا ہوں، اس جنگ کو جس بزدلی کے ساتھ لڑا جارہا ہے، قوم اب مزید خاموش تماشائی بن کر نہیں رہ سکتی۔

ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ اب غیرجانبداری کی گنجائش نہیں یا تو بچوں کے قاتلوں کے ساتھ کھڑے ہوجائیں یا ریاست کے ساتھ تاکہ دہشتگردوں کا قلع قمع کیا جاسکے۔

وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ ہمیں اطلاعات تھیں کہ بھارت کے انٹیلجنس چیف اجیت دوول بلوچستان میں کسی واقعے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں مگر اسکول جانے والے معصوم بچوں کو نشانہ بنائے جانے کی توقع نہیں کررہے تھے۔

یہ بھی پڑھیے: خضدار اسکول بس حملہ: 3 بچوں سمیت 5 افراد شہید، متعدد بچے زخمی

انہوں نے کہا ہے کہ عالمی برادری کو اب یہ دیکھنا پڑے گا کہ بھارتی پراکسیز بلوچستان میں دہشتگردی کررہی ہیں۔ بی ایل اے اور بی ایل ایف نے ہمیشہ سافٹ ٹارگٹز چنے ہیں یا تو گھر جانے والے فوجیوں کو شہید کیا یا پھر پاکستانیوں کو مار کر نسلی رنگ دیا گیا، اب معصوم بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ لڑائی اب بچوں تک آگئی ہے تو کوئی ہم سے بھی گلہ نہ کریں، ہم ذمہ دار ریاست ہیں ہم بچوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے لیکن دہشتگردوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ آج تک جتنے بھی حملے ہوئے ہیں ہم نے ملوث دہشتگردوں کو ہلاک کردیا ہے، ان بچوں کے مقدس خون کا بدلہ لیں گے۔

یہ بھی پڑھیے: بلوچستان میں دہشتگردی کی بھارتی سرپرستی کے ٹھوس شواہد سامنے آگئے

سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دہشتگرد بلوچ کہلانے کے لیے لائق نہیں، ان کی جنگ حقوق کی نہیں بلکہ یہ صرف انڈیا کی جنگ ہے۔ ہماری ریاست نے ہمیشہ ماں کا کردار ادا کیا تھا اب اسے ہارڈ اسٹیٹ بننا ہوگا۔

وزیراعلیٰ نے پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں افغان عبوری حکومت کو دوحہ میں کیے گئے ان کے وعدے یاد دلاتا ہوں کہ وہ اپنے وعدے پورے کریں آپ کی زمین ہمارے خلاف استعمال ہورہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟