کرتارپور راہداری بھارتی ہٹ دھرمی کے سبب سونی

منگل 27 مئی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امن کی راہداری کرتارپور بھارتی حکومت کی ضد اور انا کے سبب 20 روز سے بند ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سکھ برادری ہمارے سر آنکھوں پر ہے، وزیراعلیٰ مریم نواز کا کرتارپور کا دورہ

پاک بھارت کشیدگی کے بعد سیز فائر کے باوجود 2 ہفتوں سے بھارت کی جانب سے سکھ یاتریوں کو ان کے مقدس ترین مقام دربار صاحب کرتار پور آنے کی اجازت نہیں مل رہی۔

کرتار پور گوردوارہ کے ہیڈ گرنتھی سردار گوبند سنگھ کہتے ہیں ہم اپنے سکھ بھائیوں کے لیے آنکھیں بچھائے بیٹھے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے راہداری کھلی ہے جبکہ پابندی بھارت نے لگائی ہوئی ہے۔

70 سال کی دعاؤں کے بعد سکھوں کو کرتار پور راہداری سے دربار صاحب آکر درشن اور عبادت کا موقع ملا جس پر پابندی لگادی گئی ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان نے کرتار پور معاہدے میں 5 سال کی توسیع کردی

2 عالمی جنگوں میں بھی  کسی مذہب کے پیروکاروں کو ان کے مقدس مذہبی مقامات پر جانے سے نہیں روکا گیا۔

سکھ برادری نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کرتار پور راہداری کو سیاست اور دشمنی کی بھینٹ نہ چڑھائے اور فوری طور پر کرتار پور راہداری کو کھول دے۔ مزید تفصیل جانیے کرتار پور سے نمائندہ وی نیوز دلشاد شریف کی اس رپورٹ میں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

علمی سرقہ اسکینڈل میں’گرفتار‘ کیمبرج کے سابق پروفیسر کی پُراسرار موت

پاک سعودی فضائی رابطوں میں نیا اضافہ، ریاض ایئر کی پہلی پرواز کی اسلام آباد لینڈنگ، واٹر سیلوٹ پیش

پہلے ’پاکستان انفلوئنسر ایوارڈز‘: کامیاب امیدواروں کا انتخاب کیسے ہوگا؟

سیلینا گومز اور والدہ لاکھوں ڈالرز فراڈ کے مقدمہ میں پھنس گئیں

سابق فوجیوں کی فیلڈ مارشل کی جانب سے دیے گئے استقبالیہ میں بھرپور شرکت، پاک فوج کی قیادت پر اعتماد کا اظہار

ویڈیو

پاکستان کے آزادی کے دن کی تقریبات، سویٹ ہوم کے بچے فوجی یونیفارم میں بنے توجہ کا مرکز !

14 اگست، پاکستان کا آزادی کی جانب سفر، 79 سالہ قربانیوں اور ترقی کا سفر

آزادی محض سرزمین کے حصول کا نام نہیں بلکہ عوام کے حقوق کا وعدہ پورا  کرنا  بھی ہے، بلاول بھٹو کا پیغام

کالم / تجزیہ

مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں

سن 47، 1200 پاکستانی اور ایک چابی

انڈین خارجہ پالیسی کی ارتھی