ایس ایچ او کی سربراہی میں پولیس اہلکار شہری کے گھر سے 10 بکرے لے اڑے

منگل 27 مئی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عیدالاضحی کی آمد آمد ہے اور قربانی کے جانوروں کے خرید وفروخت کا سلسلہ بھی عروج پر ہے، کوئی خریدار تو کوئی بیچنے والے لیکن جس وقت سب کی نظریں اس وقت قربانی کے جانوروں کے گرد گھوم رہی ہیں، ایسے میں کراچی کے ایڈیشنل سیشن جج ویسٹ سہیل احمد مشوری کی عدالت میں ایک درخواست جمع ہوتی ہے جس میں خاتون مدعی پولیس اہلکاروں کے خلاف شکایت کرتی ہیں۔

درخواست گزار بسمہ زوجہ آصف نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ایس ایچ او انور مہراج اور تھانہ مومن آباد کے دیگر اہلکار بغیر وارنٹ کے ان کے گھر میں داخل ہوئے، خواتین کو ڈرایا دھمکایا، فرنیچر توڑا اور 10 بکرے، ایک ٹی وی، تقریباً 6 تولے سونا اور 80 ہزار روپے نقد لے گئے۔

یہ بھی پڑھیے: پنجاب میں اب جانوروں کی رنگ اور نسل کی بنیاد پر رجسٹریشن ہوگی؟

اس حوالے سے پولیس کا موقف ہے کہ خاتون کے شوہر کے خلاف نارکوٹکس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے اس حوالے سے کارروائی کی گئی لیکن پولیس اب تک جانور اور دیگر اشیا لے جانے کی وضاحت نہیں دی سکی۔

عدالت نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اورپولیس کے رویے کو افسوسناک قرار دیا۔ عدالت نے کہا کہ یہ عمل قانون سے انحراف ہے اور شہریوں کی عزت و وقار کو پامال کرتا ہے۔

عدالت نے ڈی آئی جی ویسٹ کو ہدایت دی کہ ایس پی رینک کے افسر سے انکوائری کروائی جائے، پولیس قانونی طور پر گھر میں داخل ہوئی یا نہیں؟ کیا نقصان ہوا اور کیوں اور سب سے اہم یہ کہ بکرے کہاں گئے؟

یہ بھی پڑھیے: اس بار قربانی کے جانوروں بیل، بکرے، دنبہ اور اونٹ کی اوسط قیمت کیا ہے؟

عدالت نے انکوائری رپورٹ 10 دن کے اندر (عید الاضحیٰ سے پہلے) جمع کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ اس طرح کے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔

بعدازاں عدالت نے مقدمے کی اگلی سماعت 6 جون کو مقرر کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟