وزارت عظمیٰ اور جی ایچ کیو کی لال بتی

جمعہ 5 مئی 2023
author image

بلال غوری

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

جناب عمران خان نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک بار پھر فرمایا ہے کہ انہیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لال بتی کے پیچھے لگائے رکھا۔ انہوں نے دو مرتبہ اسمبلیاں توڑنے کا کہا۔ سابق وزیر اعظم اس سے پہلے بھی کئی بار اپنی بے اختیاری اور لاچاری کا اعتراف کرچکے ہیں، لیکن اس بات کا احساس تب کیوں نہیں ہوتا جب آپ اس کرسی پر براجمان ہوتے ہیں؟
بھارت کی 75 سالہ پارلیمانی تاریخ میں نریندر مودی 14 ویں وزیر اعظم ہیں، اگر دو بار نگراں وزیراعظم بننے والے گلزاری لال نندا کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ تعداد 15 بنتی ہے۔ اس حساب سے منتخب بھارتی وزرائے اعظم کی اوسط مدت 5 سال 4 ماہ بنتی ہے۔ پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں 25 برس تک تو وزیر اعظم کا منصب خالی رہا۔ باقی ماندہ 50 سال کے دوران 30 وزرائے اعظم آئے جن میں سے 23 منتخب اور 7 نگراں پرائم منسٹر تھے۔ منتخب وزرائے اعظم میں سے کوئی ایک بھی اپنی مدت پوری نہ کر سکا۔ ایک وزیراعظم تو محض 13 دن تک اس عہدے پر متمکن رہے۔ یوں پاکستان میں 23 منتخب وزرائے اعظم کی اوسط مدت دو سال دو ماہ بنتی ہے۔ اب اگر تصویر کادوسرا رُخ دیکھیں تو جنرل منوج پانڈے بھارت کے 29 ویں آرمی چیف ہیں یعنی وہاں بری فوج کے سربراہ کی اوسط مدت ملازمت 2 سال 7 ماہ رہی، جب کہ وطن عزیز میں جنرل عاصم منیر 17 ویں سپہ سالار ہیں یعنی یہاں آرمی چیفس کی اوسط مدت ملازمت 4 سال 8 ماہ رہی۔
یہ رونا روتے ہوئے مدتیں بیت گئیں کہ عوام کی طرف سے دیے گئے مینڈیٹ کا احترام نہیں کیا جاتا۔ ووٹ کی پرچی کو عزت نہیں دی جاتی۔ منتخب وزرائے اعظم کو کام نہیں کرنے دیا جاتا۔ سازش کرکے اچھی بھلی چلتی حکومتوں کو رخصت کر دیا جاتا ہے۔ 16 اکتوبر 2020ء کو سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے گوجرانوالہ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ’جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب! آپ نے ہماری اچھی بھلی چلتی ہوئی حکومت کو رخصت کردیا‘۔ اور پھر 17 دسمبر 2022ء کو سابق وزیراعظم عمران خان نے لبرٹی چوک میں کارکنوں سے ویڈیو لنک پر خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہماری چلتی ہوئی حکومت جنرل قمر جاوید باجوہ نے سازش کرکے گرائی‘۔ اگرچہ نوازشریف کے برعکس عمران خان نے تب جنرل قمر باجوہ کا نام لیا جب وہ آرمی چیف نہیں رہے اور ریٹائر ہو کر گھر جا چکے تھے مگر دونوں کا الزام ایک ہے کہ ان کی اچھی بھلی چلتی ہوئی حکومتوں کو ختم کر دیا گیا۔ عمران خان بتدریج یہ اعتراف بھی کر رہے ہیں کہ وہ کتنے بے بس،بے اختیار اور لاچار وزیر اعظم  تھے۔اظہار رائے کی آزادی کا گلہ گھونٹنے کا معاملہ ہو یا پھر سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری کا، وہ ان سب معاملات کا ذمہ دار اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کو قرار دے رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کب کس پر کتنا دباؤ ڈالنا ہے، کب گرفتار کرنا ہے،کب رہا کرنا ہے، یہ سب فیصلے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کیا کرتے تھے۔ ہم بالکل بے بس تھے، وزیراعظم بے بس بیٹھا تھا، ذمہ داری میری تھی لیکن حکمرانی کسی اور کی تھی۔ مجھے ساڑھے تین سال میں آدھی طاقت مل جاتی تو شیر شاہ سوری سے مقابلہ کرلیتا۔ ہم اربوں روپے کے ٹیکس ڈیفالٹر پکڑتے تو وہ کہیں اور چلے جاتے اور چھوٹ جاتے۔ عمران خان کئی بار یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ اصل اختیار کسی اور کے پاس تھا اور ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ حالانکہ اس سے قبل جب وہ وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر براجمان تھے تو کہا کرتے تھے کہ جو بھی فیصلہ ہے میں ذمہ دار ہوں۔کیونکہ کوئی فیصلہ مجھ سے پوچھے بغیر نہیں ہوتا۔
حکومت میں رہتے ہوئے ان کی طرف سے یہ تاثر دیا جاتا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت ایک پیج پر ہیں۔ انہوں نے بذاتِ خود کئی بار یہ بات کہی کہ فوج پی ٹی آئی کے منشور کیساتھ کھڑی ہے، جنرل قمر باجوہ جیسا جمہوریت پسند جرنیل آج تک نہیں آیا اور وہ حکومت کا بہت ساتھ دے رہے ہیں۔ عمران خان یہ گلہ کرنے والے پہلے سربراہ حکومت نہیں بلکہ قیام پاکستان سے اب تک برسرِ اقتدا ر آنے والے 23 وزرائے اعظم میں یہی قدر مشترک ہے کہ ان سب کو اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے سچا پیار نہیں ملا، لیکن میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ایوانِ وزیراعظم کی کھڑکی سے راولپنڈی کا تعاقب کرنیوالی محبت بھری نگاہیں اور دلفریب ادائیں اقتدار سے محروم ہوتے ہی سرد آہوں اور اداس راہوں میں کیوں بدل جاتی ہیں؟ شیروانی زیب تن کیے وزیراعظم کو خاکی وردی میں ملبوس شخص سابق ہوتے ہی رقیب کیوں محسوس ہونے لگتا ہے؟ وہ جو یک جان دوقالب ہوا کرتے ہیں، ایک دوسرے کے حلیف سخن ساز دکھائی دیتے ہیں، وقت بدلتے ہی حریف دشنام طراز کیوں ہو جاتے ہیں؟
حکومت میں جو شخص چارہ ساز ا ور کار ساز دکھائی دیتا ہے، اپوزیشن میں وہی بندہ خاکی بدلحاظ اور بے نیاز کیوں نظر آتا ہے؟ کیا حکمرانی کی عقل چوس کرسی پر بیٹھتے ہی دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے یا پھر اقتدار کے نشے میں بصیرت اور بصارت دونوں جاتی رہتی ہیں؟ سربراہان حکومت اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھ کر منافقت، دروغ گوئی اور غلط بیانی سے کام لے رہے ہوتے ہیں یا پھر اپنے گناہوں کی عیب پوشی کرتے ہوئے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے بعد میں اس طرح کی جھوٹی کہانیاں گھڑی جاتی ہیں؟

آخر اس طرزعمل کی کیا وضاحت پیش کی جاسکتی ہے کہ آخری دن تک راوی چین ہی چین لکھتا ہے، عسکری ادارے اپنی پوزیشن واضح کریں یا نہ کریں لیکن حکومت یہی تاثر دیتی ہے کہ اسے قومی سلامتی کے اداروں کی بھرپور تائید و حمایت اور پشت پناہی حاصل ہے مگر اقتدار مٹھی میں بند ریت کی طرح پھسل جانے کے بعد یوں ’چی گویرا‘ بن جاتے ہیں جیسے شِیر خوار بچے چوسنی منہ سے نکل جانے پر کلبلاتے ہیں۔ اگر ہر وزیراعظم یہی دہائی دیتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کام نہیں کرنے دیتی، مدت پوری نہیں کرنے دی جاتی، سازشیں کی جاتیں ہیں اور حکومت کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں تو ٹھیک ہی کہتے ہونگے۔’صادق و امین‘ وزیر اعظم کی باتوں کو کیسے جھٹلایا جاسکتا ہے؟ لیکن وہ تب جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں، جب اقتدار میں ہوتے ہیں یا تب جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں؟

آخری سوال یہ کہ آج تک کسی لاچار،بے بس اور بے اختیار وزیراعظم نے استعفیٰ کیوں نہیں دیا؟ کٹھ پتلی بن کر اس وقت تک اقتدار سے چپکے کیوں رہتے ہیں جب تک ان کی تشریف پر ٹھوکر مار کر وزیراعظم آفس سے نکال نہیں دیا جاتا؟ سویلین بالادستی پر یقین رکھنے والے ہر جمہوریت پسند شخص کو ان سوالات پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ سابق سربراہان حکومت کی طرح موجودہ وزیر اعظم  شہبازشریف بھی کہیں کسی لال بتی کے تعاقب میں اپنی راہ کھوٹی تو نہیں کررہے؟

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp