تخفیف اسلحہ پر پاک یورپی یونین گول میز کانفرنس کا انعقاد

جمعہ 13 جون 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عدم پھیلاؤ اور تخفیف اسلحہ سے متعلق پاکستان-یورپی یونین مذاکرات کا 5واں دور جمعرات کو اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ ’تباہی کا فارمولا‘ ہے، اقوام متحدہ نے خبردار کر دیا

پاکستانی وفد کی قیادت سفیر اور ایڈیشنل خارجہ سیکریٹری برائے اسلحہ کنٹرول طاہر حسین اندرابی کر رہے تھے جبکہ یورپی یونین کے وفد کی سربراہی اسٹیبلشمنٹ برائے اسلحے کے سربراہ خصوصی سفیر برائے تخفیف اسلحہ اور عدم پھیلاؤ اسٹیفن کلیمنٹ کر رہے تھےے سی ڈی سی کے ڈائریکٹر ملک قاسم مصطفی نے سیشن کی نظامت کی۔

دونوں فریقین نے بین الاقوامی اور علاقائی امن، سلامتی اور اسٹریٹجک استحکام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان کی جانب سے یورپی یونین کے مذاکرات کاروں کو حالیہ پاک بھارت تنازع کے تناظر میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

بات چیت میں تخفیف اسلحہ اور عدم پھیلاؤ کی مختلف جہتوں پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔

اس کے علاوہ ملٹی لیٹرل ایکسپورٹ کنٹرول ریجیمز میں حالیہ رجحانات اور عالمی سلامتی پر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے مضمرات کا جائزہ لیا گیا۔ سائنس اور ڈپلومیسی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کی راہیں بھی تلاش کی گئیں۔

فریقین نے سنہ 2026 میں برسلز میں مذاکرات کا چھٹا دور منعقد کرنے پر اتفاق کیا۔

مزید پڑھیے: مصنوعی ذہانت ڈرون اور روبوٹس کو کیسے زیادہ مہلک بنا دے گی؟

اپنے دورہ پاکستان کے دوران یورپی یونین کے خصوصی ایلچی نے سیکریٹری خارجہ سے ملاقات کی اور انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز، اسلام آباد میں گول میز مباحثے میں شرکت کی۔

عدم پھیلاؤ اور تخفیف اسلحہ پر پاکستان-یورپی یونین ڈائیلاگ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان وسیع تر اسٹریٹجک مصروفیات کا ایک لازمی حصہ ہے جسے سال 2012 سے ادارہ جاتی شکل دی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا عسکری مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال پر اظہار تشویش

پاکستان مذاکرات کے اس باقاعدہ طریقہ کار کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور اسے عالمی اور غیر علاقائی سلامتی کے مسائل پر تعمیری مشغولیت کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟