امریکی عدالت کا ٹرمپ کے انتخابی حکم پر بڑا فیصلہ، ایگزیکٹو آرڈر معطل

ہفتہ 14 جون 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کی ریاست میساچوسٹس کی ایک وفاقی عدالت نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اُس ایگزیکٹو آرڈر کو معطل کر دیا ہے، جس کے تحت ووٹنگ کے طریقہ کار میں اہم تبدیلیاں تجویز کی گئی تھیں۔

عدالت نے اس حکم کو آئینی حدود سے تجاوز قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ انتخابی ضوابط کا اختیار صرف کانگریس کو حاصل ہے، نہ کہ صدر کو۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی عدالتوں میں کافکا کے حوالے کثرت سے کیوں دیے جاتے ہیں؟

ٹرمپ کے حکم نامے میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ووٹروں کو رجسٹریشن کے وقت شہریت کے دستاویزی ثبوت فراہم کرنا ہوں گے اور صرف وہ ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹ قابل قبول ہوں گے جو انتخابی دن تک موصول ہو جائیں۔

اس کے ساتھ ساتھ ریاستوں پر زور دیا گیا تھا کہ اگر وہ وفاقی مالی امداد چاہتی ہیں تو وہ ان نئے اصولوں کو لاگو کریں۔

عدالت کے جج ڈینیز کیپر نے قرار دیا کہ یہ حکم ریاستوں کے آئینی اختیارات پر مداخلت ہے اور صدر کو ایسا اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ ملک بھر میں انتخابی طریقہ کار خود طے کرے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی عدالت کا اسرائیلی کمپنی کو ’خفیہ کوڈ‘ واٹس ایپ کے حوالے کرنے کا حکم

جج کے مطابق اس حکم سے ریاستوں پر غیر ضروری مالی بوجھ بھی پڑے گا اور ان کی خودمختاری متاثر ہو گی۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ عدالت نے ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو آرڈر کو نشانہ بنایا ہو۔ اس سے قبل واشنگٹن ڈی سی اور دیگر عدالتوں میں بھی اس کے خلاف فیصلے دیے جا چکے ہیں، جن میں اس کے مختلف نکات کو معطل کیا گیا تھا۔

وائٹ ہاؤس نے عدالت کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کا حکم آزاد اور شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے تھا، لیکن عدالت نے اس مؤقف کو تسلیم نہیں کیا۔ ادھر کئی ریاستوں نے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور اسے جمہوری اصولوں کی فتح قرار دیا ہے۔

یہ عدالتی فیصلہ امریکی انتخابی عمل میں صدر کے اختیار کی حدود کے بارے میں ایک اہم نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟