نیویارک میئر کے لیے نامزد امیدوار ظہران ممدانی نے ’روٹی، کپڑا اور مکان‘ کا نعرہ لگادیا

بدھ 25 جون 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیویارک میئر کے لیے نامزد امیدوار 33 سالہ ظہران ممدانی جو اس وقت اپنی انتخابی مہم میں مصروف ہیں ان کی چند ویڈیوز سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہی ہیں جس میں وہ کبھی روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگاتے دکھائی دیتے ہیں تو کبھی بالی ووڈ کے اسٹار امیتابھ بچن کا ڈائیلاگ ’آج میرے پاس بلڈنگیں ہیں، پراپرٹی ہے، بینک بیلنس ہے، بنگلہ ہے، گاڑی ہے تمھارے پاس کیا ہے؟‘ بولتے نظر آتے ہیں۔

ظہران ممدانی کی غیر معمولی انتخابی مہم ہےسوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہی ہے۔ وائرل ویڈیو میں انہیں پیپلز پارٹی کا مشہور انتخابی نعرہ اپنی مہم میں استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا، ان کا کہنا تھا کہ نیو یارک کے لوگ مشکل سے روٹی، کپڑا اور مکان افورڈ کر رہے ہیں اور میں یہ سب بدلنے کے لیے لڑ رہا ہوں۔

ان کی مہم میں لوگوں کو کافی دلچسپی ہے کیونکہ انہیں نیو یارک جیسے مہنگے شہر میں لوگوں کے مسائل کی جانب توجہ دلا رہے ہیں۔ انھوں نے نیو یارک میں رہائش، نقل وحمل اور کھانے کی سہولیات کو منصفانہ بنانے کا وعدہ کیا ہے۔ ظہران ممدانی کا موقف ہے کہ ارب پتیوں کے پاس سب کچھ ہے، اور اب عام شہریوں کی باری ہے۔

سوشل میڈیا صارفین ظہران ممدانی کی انتخابی مہم کو بہت دلچسپ اور شاندار قرار دے رہے ہیں اور کئی صارفین ان کے اتنی روانی اور صاف اردو بولنے پر حیران ہوئے اور کہا کہ ایسا لگ رہا ہے یہ کراچی سے ہیں۔ کئی صارفین کا کہنا تھا کہ کاش وہ انہیں ووٹ دے سکتے۔

ایک سوشل میڈیا صارف نے حیرانی کا ظہار کرتے ہوئے کہا کہ ظہران ممدانی نے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا ہے، ’بھٹو امریکا میں بھی زندہ ہے‘۔

واضح رہے کہ نیویارک کے سابق گورنر اینڈریو کوومو نے نیویارک شہر کے میئر کے انتخاب کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری انتخابات میں ظہران ممدانی سے شکست تسلیم کر لی ہے اور اب ظہران ممدانی باقاعدہ ڈیموکریٹ امیدوار منتخب ہو گئے ہیں۔

 اگر ظہران ممدانی میئر کے الیکشن میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ نیویارک کی قیادت کرنے والے پہلے مسلم اور جنوبی ایشیائی میئر ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟