ملک کے مختلف علاقوں میں جاری شدید بارشوں کے بعد نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ممکنہ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے، جبکہ متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور امدادی اداروں کو چوکنا رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ژوب اور ہرنائی میں طوفانی بارشیں اور سیلاب، 4 افراد بہہ گئے، 3 خواتین بھی شامل
دریاؤں کے بہاؤ میں خطرناک اضافہ
گزشتہ 2 روز سے خیبرپختونخوا، پنجاب، سندھ اور گلگت بلتستان سمیت ملک کے مختلف حصوں میں وقفے وقفے سے ہونے والی موسلادھار بارش کے باعث دریائے کابل اور دریائے سوات میں پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

حکام کے مطابق، دریائے سوات کا سیلابی ریلا اب دریائے کابل میں شامل ہو چکا ہے، جس کے بعد پشاور، نوشہرہ اور دیگر نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
کراچی میں بارش کے 2 دن میں 8 اموات
کراچی میں مون سون بارشوں نے شدید تباہی مچائی ہے۔ گزشتہ 2 روز میں بارش سے جڑے مختلف حادثات میں 8 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں کرنٹ لگنے، دیواریں گرنے اور سڑک حادثات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ میں سیلاب سے متاثرہ سڑکوں کی بحالی کے لیے ڈیڑھ ارب روپے کی منظوری
شہری حکومت نے عوام سے غیر ضروری طور پر گھروں سے نہ نکلنے اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی اپیل کی ہے۔
شمالی علاقہ جات میں گلیشیئر پگھلنے کا خدشہ
گلگت بلتستان میں درجہ حرارت میں اضافے کے باعث گلیشیئرز کے پگھلنے کا عمل تیز ہو چکا ہے، جس سے فلیش فلڈز (اچانک سیلاب) کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

این ڈی ایم اے نے مقامی انتظامیہ کو الرٹ رہنے اور عوام کو بروقت آگاہی دینے کی ہدایت کی ہے۔
پنجاب اور سندھ بھی خطرے کی زد میں
پنجاب کے نشیبی اضلاع، خصوصاً راجن پور، مظفر گڑھ، بہاولپور اور ڈی جی خان میں بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ جبکہ سندھ کے ساحلی اور جنوبی علاقوں میں بھی طوفانی بارشوں کا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت
این ڈی ایم اے اور محکمہ موسمیات نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موسم کی تازہ ترین معلومات پر نظر رکھیں، نشیبی علاقوں سے دور رہیں، اور ہنگامی صورتِ حال میں Rescue 1122 یا متعلقہ ضلعی انتظامیہ سے فوری رابطہ کریں۔
حکومت نے تمام متعلقہ اداروں کو 24 گھنٹے الرٹ رہنے اور ممکنہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی پیشگی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کر دی ہے۔












