معمر خاتون کے ریپ اور قتل کے 92 سالہ مجرم کو عمر قید کی سزا، 58 سال بعد انصاف کی جیت کیسے ہوئی؟

بدھ 2 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ میں انصاف کی تاریخ میں ایک غیرمعمولی فیصلہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک 92 سالہ شخص رائلنڈ ہیڈلی  کو 58 سال پرانے ریپ اور قتل کیس میں عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔ یہ واقعہ جون 1967 میں پیش آیا تھا اور اسے سرد خانے میں ڈالا گیا کیس تصور کیا جا رہا تھا جو کئی دہائیوں تک حل نہ ہو سکا۔

واقعے کی تفصیل

75 سالہ لویسا ڈن  کو برسٹل کے علاقے ایسٹن میں ان کے گھر میں ہلاک پایا گیا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ خاتون کو پہلے ریپ کا نشانہ بنایا گیا اور پھر گلا دبا کر ہلاک کیا گیا۔ اس وقت پولیس نے وسیع پیمانے پر تحقیقات کیں، جس میں 19,000 مردوں کے ہتھیلی کے نشانات لیے گئے،  1,300 بیانات قلمبند کیے گئے 8,000 گھروں کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا تاہم، کوئی نتیجہ حاصل نہ ہو سکا چنانچہ کیس بند کر دیا گیا۔

جدید ٹیکنالوجی کا کردار: 2023 میں کیس دوبارہ کھلا

تقریباً 56 سال بعد، 2023 میں پولیس نے اس کیس کو دوبارہ کھولا۔ جدید فرانزک ٹیکنالوجی کی مدد سے مقتولہ کی اسکرٹ سے ڈی این اے حاصل کیا گیا، جو اس وقت کی ٹیکنالوجی سے ممکن نہ تھا۔

یہ ڈی این اے بعد ازاں رائلنڈ ہیڈلی  کے ڈیٹا سے میچ ہوا، جو پہلے 1977 میں 2بزرگ خواتین کے ریپ میں سزا یافتہ رہ چکا تھا۔ اس میچنگ کے بعد، پولیس نے نومبر 2024 میں ہیڈلی کو گرفتار کر لیا۔

فیصلہ اور عدالتی ریمارکس

برسٹل کراؤن کورٹ نے 1 جولائی 2025 کو ہیڈلی کو ریپ اور قتل کا مجرم قرار دیا، اور اگلے دن عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ جج ڈیریک سویٹنگ  نے کہا:

’آپ نے ایک کمزور، معمر خاتون کے گھر میں گھس کر اس پر جنسی حملہ کیا، اور اس حملے کے دوران اسے بے رحمی سے قتل کیا۔ یہ ایک سفاکانہ اور بے رحم جرم تھا، جس میں انسانی وقار کا کوئی خیال نہ رکھا گیا۔‘

جج نے مزید کہا کہ مجرم کی عمر کے پیشِ نظر وہ اب جیل ہی میں اپنی زندگی کا اختتام کرے گا۔

پرانے شواہد کا دوبارہ جائزہ

عدالت کو بتایا گیا کہ پولیس نے 20 ڈبوں پر مشتمل پرانا مواد دوبارہ چھانا۔ ان میں سے ایک پرانے ہتھیلی کے نشان کو بھی جدید تکنیک سے جانچا گیا، جو مقتولہ کے گھر کی کھڑکی پر ملا تھا۔ 4 ماہرین نے اس نشان کو ہیڈلی سے میچ کیا۔

ماضی کے جرائم سے مماثلت نے مدد کی

ہیڈلی نے 1977 میں ایپسوچ کے علاقے میں 2 ضعیف خواتین کو ان کے گھروں میں گھس کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ متاثرہ خواتین میں ایک کی عمر 70 سال اور دوسری کی 80 سال سے زائد تھی۔

عدالت کو بتایا گیا کہ اگرچہ برطانیہ میں پرانے مقدمات از خود قابلِ قبول نہیں ہوتے، مگر ان جرائم میں غیر معمولی مماثلت نے قائل کیا کہ یہ شواہد قابل توجہ ہیں۔

انصاف کی راہ میں سست روی اور چیلنجز

یہ فیصلہ اگرچہ پولیس اور استغاثہ کی عزم، محنت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا مظہر ہے، تاہم برطانیہ میں ریپ کے مقدمات میں سزا کی شرح تشویشناک حد تک کم ہے۔

2024 میں 71,227 ریپ کیسز رپورٹ ہوئے۔ ان میں سے صرف 2.7 فیصد کیسز میں فرد جرم عائد کی گئی۔ پولیس کو ملزم پر فرد جرم عائد کرنے میں اوسطاً 344 دن لگتے ہیں جبکہ عدالتوں کو کیس مکمل کرنے میں اوسطاً 336 دن لگتے ہیں۔

استغاثہ کا مؤقف

کراؤن پراسکیکوشن سروس کی وکیل شارلٹ ریئم  نے کہا ’ یہ فیصلہ ہماری مستقل مزاجی اور عزم کا ثبوت ہے کہ ہم انصاف کے حصول کے لیے وقت کی قید سے بالاتر ہو کر کام کرتے ہیں۔ یہ کیس ان ہزاروں متاثرین کے لیے امید کی کرن ہے، جنہیں برسوں سے انصاف نہیں ملا۔‘

دیر سے سہی، انصاف ہو گیا

یہ مقدمہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ انصاف میں دیر ہو سکتی ہے، لیکن اندھیر نہیں ہونا چاہیے۔ یہ فیصلہ ایک مضبوط پیغام ہے کہ جرم خواہ جتنا پرانا ہو، سچ بالآخر سامنے آ کر رہتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ مہارت، اور عزم نے ایک 58 سال پرانے زخم پر مرہم رکھا، اور ایک مظلوم کو آخرکار انصاف ملا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستانی ساختہ ’ٹرائی اونڈا‘ فٹبال کی عالمی سطح پر نمائش، وطن عزیز کے ہنر کی ایک اور شاندار پہچان

اسلام آباد پولیس کے سابق ایس پی کو سزائے موت سنا دی گئی

خیبرپختونخوا تیل و گیس کے شعبے میں بڑا حصہ لینے جا رہا ہے، صوبے کے حقوق کے لیے مل کر لڑیں گے، مزمل اسلم

اسرائیل کا غزہ جانے والے صمود فلوٹیلا پر حملہ، پاکستانیوں سمیت 430 رضاکار گرفتار

ٹوٹتے رشتے، بکھرتے گھرانے: اسلام آباد میں طلاق اور خلع کے کیسز میں خوفناک اضافہ

ویڈیو

ٹرمپ کے دورۂ چین کے بعد خطے میں کسی نئی جنگ کی کوئی گنجائش نہیں: سینیٹر مشاہد حسین سید

عوام میں بجٹ ریلیف کی امیدیں بڑھ گئیں، سہیل آفریدی نے دھرنے کا راستہ کیوں بدلا؟

پاک چین دوستی علاقائی امن، ترقی اور عالمی استحکام کے لیے ناگزیر ہے، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈارکا قومی اسمبلی میں خطاب

کالم / تجزیہ

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟

وزیر آغا‘ ایک عہد جو مکالمہ بن گیا