لاطینی امریکی ملک پیرو کے شمالی صوبے بارانکا صوبے میں ایک 3,500 سال پرانا شہر دریافت کرلیا گیا۔
بی بی سی کے مطابق شہر کھوجنے والے ماہرین آثار قدیمہ نے شہر کا نام ’پینی کو‘ رکھا ہے۔
یہ شہر قدیم پیسیفک ساحلی کمیونیٹیز اور اینڈیز پہاڑوں اور ایمیزون بیسن کے درمیان ایک اہم تجارتی مرکز کے طور پر کام کرتا تھا۔ یہ شہر پیرو کے دارالحکومت لِما سے تقریباً 200 کلومیٹر شمال میں واقع ہے اور سطح سمندر سے 600 میٹر (1،970 فٹ) بلند ہے۔
ماہرین کے مطابق اس شہر کا قیام 1،800 سے 1،500 قبل مسیح کے درمیان ہوا تھا جو تقریباً وہی وقت ہے جب مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا میں ابتدائی تہذیبیں ترقی کر رہی تھیں۔
تحقیقات کے مطابق اس دریافت نے امریکی براعظم کی سب سے قدیم تہذیب ’کارل‘ کے بارے میں مزید معلومات فراہم کی ہیں۔
ٹیم کے مطابق پینی کو کے مرکز میں ایک گول ساخت کا منظر ہے جو پہاڑی پر واقع ایک سطح پر پایا گیا ہے اور اس کے ارد گرد پتھر اور مٹی کے بنے ہوئے عمارتوں کے آثار ہیں۔
اس شہر کی کھدائی کے دوران 18 اہم عمارتیں دریافت ہوئی ہیں جن میں مذہبی مقامات اور رہائشی کمپلیکس شامل ہیں۔ ان عمارتوں میں مختلف مذہبی اشیا، مٹی کے مجسمے اور سیپوں اور موتیوں سے بنے ہار بھی ملے ہیں۔
پینی کو شہر جہاں سے کارل تہذیب کا آغاز 5،000 سال پہلے یعنی 3،000 قبل مسیح میں ہوا تھا کے قریب واقع ہے۔ کارل تہذیب میں 32 بڑے مقامات شامل ہیں جن میں وسیع اہرام، جدید زرعی نظام اور شہری بستیاں شامل ہیں۔
ڈاکٹر رتھ شیڈی، جو پینی کو اور کارل کی کھدائی کی تحقیق کی قیادت کر رہی ہیں، نے کہا کہ یہ دریافت کارل تہذیب کے بعد اس کے آثار کی سمجھنے میں اہمیت رکھتی ہے، خاص طور پر جب یہ ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ماند پڑ چکی تھی۔
وزارت ثقافت کے محقق اور ماہر آثار قدیمہ مارکو ماچاکوے نے اس دریافت کو ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پینی کو کا شہر دراصل کارل تہذیب کا تسلسل ہے۔
پیرو دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کا گھر ہے۔ اس میں مشہور ’انکا‘ قلعہ مچو پچو اور صحرائے نازکا میں موجود متنازعہ نازکا لائنس جیسے اہم آثار قدیمہ کی دریافتیں بھی شامل ہیں۔
یہ نئی دریافت پیرو کے قدیم ترین تہذیبی ورثے کو مزید اجاگر کرتی ہے اور دنیا کو اس خطے کی تاریخی اہمیت سے روشناس کراتی ہے۔













