اڈیالہ کے باہر نئی سڑک پر گھڑی نصب، ’یہ کس کی یاد دلاتی ہے‘

منگل 8 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے آج راولپنڈی میں بننے والے نئے نواز شریف فلائی اوور کا افتتاح کیا اور اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں اب تک 12 ہزار کلومیٹر پر محیط سڑکیں بن چکی ہیں، صوبے میں ترقیاتی منصوبوں پر کام تیزی سے چل رہا ہے۔

مگر سوشل میڈیا پر اس فلائی اوور سے زیادہ وہاں نصب ہونے والی گھڑی توجہ کا مرکز بنتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ صارفین اس فلائی اوور کی ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے گھڑی کے بارے میں سوال کر رہے ہیں کہ آخر یہ گھڑی یہاں کیوں نصب کی گئی ہے؟

ذیشان رشید نے لکھا کہ سمجھ سے باہر ہے کہ آخر یہ جی پی او چوک میں گھڑی کیوں لگائی گئی ہے اور یہ گھڑی کس کی یاد دلاتی ہے؟

شمع جونیجو نے لکھا کہ اس انڈر پاس پر گھڑی کا نصب کیا جانا علامتی حیثیت رکھتا ہے۔

ایک صارف نے کہا کہ راولپنڈی مال روڈ پر دو انڈر پاس صرف 4 ماہ کی قلیل ترین مدت میں مکمل ہوا، انہوں نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سوال کیا کہ اس ویڈیو میں کیا خاص ہے؟

ابراہیم خان نے لکھا کہ یہ انڈر پاس اڈیالہ سے کچھ ہی فاصلے پہ ہے۔

عاصمہ نواز نے ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ گھڑی نہیں ہے جو آپ سمجھ رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں ماضی جیسی کشیدگی نہیں، نظام مشترکہ انداز میں چل رہا ہے، عامر الیاس رانا

امریکا کے ایران پر  نئے فضائی حملے ، متعدد مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور

شارجہ سے کراچی آنے والا پاکستانی کارگو کمپنی کا طیارہ لاپتا، تلاش کا عمل شروع

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ترکیہ پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا اعلان

ویڈیو

موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں ماضی جیسی کشیدگی نہیں، نظام مشترکہ انداز میں چل رہا ہے، عامر الیاس رانا

خیبرپختونخوا حکومت کی اپنے لیے مراعات، نئے قانون میں خاص کیا ہے؟

خیبر پختونخوا اسمبلی ایک دہائی بعد بھی مکمل پیپر لیس کیوں نہ بن سکی؟

کالم / تجزیہ

سندھ طاس: بھارت کی اسٹریٹیجک مس کیلکولیشن

فیفا فٹبال میں چھپی صدی کی کہانی

ریڈیو کا روشن باب: بھائی لال اور اوم پرکاش