روس نے پاکستان کو فطری اتحادی اور اہم علاقائی شراکت دار قرار دے دیا

جمعہ 11 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

روس کے نائب وزیرِ اعظم، الیکسی اوورچک نے کہا ہے کہ پاکستان اور روس ’ فطری اتحادی‘ ہیں۔ صدر پیوٹن پاکستان کو علاقے کی معیشت اور توانائی کے شعبے میں ترقی کے لیے ایک اہم شراکت دار سمجھتے ہیں۔

یہ بات انہوں نے جمعرات کے روز ماسکو میں پاکستان کے ایک اعلی سطحی وفد سے ملاقات کے دوران کہی، جس کی قیادت وزیرِ اعظم کے خصوصی معاون برائے امور خارجہ سید طارق فاطمی نے کی۔ وفد میں وزیرِ صنعت و پیداوار ہارون اختر خان بھی شامل تھے، جو پاکستان اسٹیل ملز منصوبے کے نگران بھی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے روس پاکستان کے ساتھ دوستی کے نئے اُفق کی تلاش میں ہے، ویلنٹینا مٹوینکو کا سینیٹ سے تاریخی خطاب

ملاقات میں دونوں فریقوں نے دو طرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا، جس میں سیاسی، تجارتی، اقتصادی تعاون، توانائی، رابطے، صنعتی اور زرعی شعبوں میں تعاون شامل تھا۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم کے خصوصی معاون طارق فاطمی نے کہا کہ پاکستان اپنے روس کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، اور روس کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان روس کو عالمی سطح پر استحکام کا ایک عنصر سمجھتا ہے۔

پیوٹن شہباز شریف سے ملاقات کے بے صبری سے منتظر، روسی نائب وزیراعظم

نائب وزیرِ اعظم اوورچک نے ملاقات کے دوران کہا کہ ’صدر پیوٹن اگلے ماہ چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہانِ مملکت اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ملاقات کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔‘

ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان کو کراچی میں نئے اسٹیل ملز کے منصوبے پر جاری بات چیت کی اہمیت کا بخوبی اندازہ ہے، کیونکہ یہ منصوبہ پاکستان اور روس کے تعلقات کی ایک اہم وراثت ہے اور مستقبل میں تعاون اور شراکت داری میں  ایک نئی ’جست‘ ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستانی وفد کی روسی نائب وزیراعظم کے ساتھ ملاقات

1956 میں سوویت وزیرِ اعظم نکولائی بلگنین نے پاکستان کے وزیراعظم حسین شہید سہروردی کو تکنیکی اور سائنسی امداد فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی، اور ملک کے پہلے اسٹیل ملز کے قیام میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔

اگست 2025 میں پاکستان اور روس کے درمیان پائلٹ کارگو ٹرین کا آغاز

دورانِ ملاقات، نائب وزیرِ اعظم اوورچک نے اپنی 2024 میں پاکستان کی دورہ یاد کیا اور وزیراعظم شہباز شریف سے اپنی ملاقات کو اہمیت دی۔ انہوں نے پاکستان اور روس کے درمیان رابطے کے منصوبوں جیسے کہ ازبکستان، پاکستان اور روس کے درمیان ریلوے رابطہ اور اگست 2025 میں پاکستان اور روس کے درمیان پائلٹ کارگو ٹرین کے آغاز کو اہم قرار دیا۔

دونوں فریقوں نے جنوبی ایشیا، افغانستان اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال جیسے علاقائی اور عالمی مسائل پر بھی بات چیت کی اور ملٹری فورمز پر پاکستان اور روس کے دو طرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

یہ بھی پڑھیے پاکستان اور روس کے درمیان کراچی میں نئی اسٹیل مل کے قیام پر اتفاق

نائب وزیرِ اعظم اوورچک نے ملاقات میں پاکستان کے 2 معاونینِ وزیرِ اعظم کے دورے کی بھرپور تعریف کی اور اس بات کا اعادہ کیا کہ صدر پیوٹن پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید گہرا کرنے کے حق میں ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیا مصنوعی ذہانت انسان کے قابو سے باہر ہو رہی ہے؟ اوپن اے آئی کے ماڈل نے ٹیسٹ کے دوران حدود توڑ دیں

مودی کا مؤقف مسترد، کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج میں تیزی لانے کا اعلان، حکومت نے پھر مہلت مانگ لی

کراچی: لی مارکیٹ میں کھدائی کے دوران 2 مجسمے برآمد، ماہرین نے تحقیق شروع کر دی

خیبر پختونخوا میں 27 جولائی تک بارشوں اور تیز ہواؤں کی پیشگوئی، پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

سوشل میڈیا نے تخلیقی صلاحیتوں کو محدود کر دیا، لوگ صرف ٹرینڈز کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، جاوید اختر

ویڈیو

پاکستان کا دوٹوک انتباہ، حوثی باغیوں کی خیر نہیں، ایران کا بڑا اعلان، امریکا کی چال بھی ناکام

مودی نے طلبا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے، بھارتی ایجنسی کس طرح پاکستانی صحافیوں کو استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے؟

قدیم انجینیئرنگ سے دنیا حیران، 2 ہزار سال پرانا چینی تالا جسے کھولنے کے لیے محض چابی نہیں بڑا دماغ بھی چاہیے

کالم / تجزیہ

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار

شفاف انتخابات کا فریب