اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے گزشتہ ہفتے واشنگٹن کا دورہ کیا، جہاں امریکی حکام نے حماس کے ہاتھوں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ان( نیتن یاہو) سے متعدد ملاقاتیں کیں۔ اس دورے کے دوران، اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے غزہ کے بارے میں امریکی منصوبوں کو سبوتاژ کرنا ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک بدترین ذلت بن گیا ہے۔
ممتاز اسرائیلی ہاریٹز نے اپنے ایک تجزیہ میں لکھا ہے کہ یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب نیتن یاہو نے غزہ کے حوالے سے امریکی حکام کے ساتھ مذاکرات میں کسی بھی قسم کی پیشرفت کے لیے اپنی سرکاری حمایت واپس لے لی۔ غزہ میں انسانی بحران کے حل کے لیے بات چیت میں شریک ہونے کی بجائے، انہوں نے نہ صرف اپنے موقف میں سختی پیدا کی بلکہ انہوں نے امریکی حکام کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو عملاً ناکام بنا دیا۔
یہ بھی پڑھیے نیتن یاہو وائٹ ہاؤس سے خاموشی سے روانہ، غزہ مذاکرات میں کوئی پیشرفت نہ ہوسکی
یہ واقعہ اس بات کا غماز ہے کہ اسرائیلی حکومت کا موقف نہ صرف فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات میں رکاوٹ بن رہا ہے، بلکہ اس حوالے سے امریکی انتظامیہ کے مشرق وسطیٰ کے حوالے سے امن منصوبوں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اس سبوتاژ نے ان کے مشرق وسطیٰ کے امن منصوبے کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے، اور وہ اس صورتِ حال سے سخت مایوس ہیں۔
اس دوران، یرغمالیوں کے اہل خانہ نے بھی نیتن یاہو کی اس پالیسی پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت انہیں نظرانداز کر رہی ہے، جب کہ وہ اپنے عزیزوں کی رہائی کے لیے ایک سنجیدہ کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، نیتن یاہو کی اس پالیسی نے ان کی امیدوں کو توڑ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے نیتن یاہو اسرائیل کے لیے ایران سے بڑا خطرہ، رجیم چینج کا نعرہ مہنگا پڑگیا
ٹرمپ انتظامیہ نے اس معاملے کو اپنے لیے ایک سنگین ناکامی کے طور پر دیکھا ہے، کیونکہ یہ مذاکرات صرف اسرائیل کے مفاد میں نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ کے لیے بھی اہم تھے۔ اس سبوتاژ کی وجہ سے اسرائیل اور امریکا کے تعلقات میں تناؤ کی نئی لہر پیدا ہو گئی ہے، جس کا اثر مستقبل میں دونوں ممالک کے تعلقات پر پڑ سکتا ہے۔













