نیتن یاہو غزہ مذاکرات سبوتاژ کرکے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ذلت کا باعث بن گئے، اسرائیلی اخبار ہاریٹز

پیر 14 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے گزشتہ ہفتے واشنگٹن کا دورہ کیا، جہاں امریکی حکام نے حماس کے ہاتھوں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ان( نیتن یاہو) سے متعدد ملاقاتیں کیں۔ اس دورے کے دوران، اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے غزہ کے بارے میں امریکی منصوبوں کو سبوتاژ کرنا ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک بدترین ذلت بن گیا ہے۔

ممتاز اسرائیلی ہاریٹز نے اپنے ایک تجزیہ میں لکھا ہے کہ یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب نیتن یاہو نے غزہ کے حوالے سے امریکی حکام کے ساتھ مذاکرات میں کسی بھی قسم کی پیشرفت کے لیے اپنی سرکاری حمایت واپس لے لی۔ غزہ میں انسانی بحران کے حل کے لیے بات چیت میں شریک ہونے کی بجائے، انہوں نے نہ صرف اپنے موقف میں سختی پیدا کی بلکہ انہوں نے امریکی حکام کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو عملاً ناکام بنا دیا۔

یہ بھی پڑھیے نیتن یاہو وائٹ ہاؤس سے خاموشی سے روانہ، غزہ مذاکرات میں کوئی پیشرفت نہ ہوسکی

یہ واقعہ اس بات کا غماز ہے کہ اسرائیلی حکومت کا موقف نہ صرف فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات میں رکاوٹ بن رہا ہے، بلکہ اس حوالے سے امریکی انتظامیہ کے مشرق وسطیٰ کے حوالے سے امن منصوبوں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اس سبوتاژ نے ان کے مشرق وسطیٰ کے امن منصوبے کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے، اور وہ اس صورتِ حال سے سخت مایوس ہیں۔

اس دوران، یرغمالیوں کے اہل خانہ نے بھی نیتن یاہو کی اس پالیسی پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت انہیں نظرانداز کر رہی ہے، جب کہ وہ اپنے عزیزوں کی رہائی کے لیے ایک سنجیدہ کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، نیتن یاہو کی اس پالیسی نے ان کی امیدوں کو توڑ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے نیتن یاہو اسرائیل کے لیے ایران سے بڑا خطرہ، رجیم چینج کا نعرہ مہنگا پڑگیا

ٹرمپ انتظامیہ نے اس معاملے کو اپنے لیے ایک سنگین ناکامی کے طور پر دیکھا ہے، کیونکہ یہ مذاکرات صرف اسرائیل کے مفاد میں نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ کے لیے بھی اہم تھے۔ اس سبوتاژ کی وجہ سے اسرائیل اور امریکا کے تعلقات میں تناؤ کی نئی لہر پیدا ہو گئی ہے، جس کا اثر مستقبل میں دونوں ممالک کے تعلقات پر پڑ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟