ایف بی آر نے ٹرمینل آپریٹرز کی نگرانی سخت کر دی، نئی ہدایات جاری

پیر 14 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فیڈرل بورڈ آف ریونیو یعنی ایف بی آر نے فیصلہ کیا ہے کہ ایسے سمندری بندرگاہوں، آف ڈاک ٹرمینلز، ڈرائی پورٹس یا زمینی سرحدی مقامات پر کام کرنے والے ٹرمینل آپریٹرز کی رجسٹریشن معطل یا منسوخ کر دی جائے گی، جو بنیادی انفراسٹرکچر، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ضروری دستاویزات کی کم از کم شرائط پوری کرنے میں ناکام ہوں گے۔

ایف بی آر نے ٹرمینل آپریٹرز کی نگرانی اور جانچ کے نظام کو سخت کرنے کے لیے 2025 کا کسٹمز جنرل آرڈر نمبر 7 جاری کر دیا ہے۔

ایف بی آر کی جاری کردہ ہدایات کے مطابق، کسٹمز رولز 2001 کے قاعدہ 548 کے تحت، وہ تمام ٹرمینل آپریٹرز جو کسٹمز کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے تحت کام کرتے ہیں، ان کے لیے قاعدہ 554 میں درج انفرا اسٹرکچر، معائنہ کی سہولیات، محفوظ ماحول، آئی ٹی سسٹم اور ضروری دستاویزات کی کم از کم شرائط پوری کرنا لازم ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایف بی آر میں انسانی مداخلت کم کرکے ٹیکنالوجی متعارف کرانے سے کرپشن کم ہوگی، وزیر خزانہ

یہ احکامات آف ڈاک ٹرمینل آپریٹرز پر بھی لاگو ہوں گے جیسا کہ قاعدہ 554 اے میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ایف بی آر کی جانب سے جولائی 2024 میں جاری کردہ گائیڈ لائنز کے پیرا 3 میں درج شرائط بھی ان آپریٹرز کے لیے لازم ہوں گی۔

یہی شرائط ڈرائی پورٹس اور زمینی سرحدی اسٹیشنز پر بھی لاگو ہوں گی، بشرطیکہ وہ ٹرمینل آپریٹرز کے طور پر کسٹمزکمپیوٹرائزڈ سسٹم میں رجسٹرڈ ہوں، کم از کم شرائط کی باقاعدہ اور وقتاً فوقتاً تصدیق کو یقینی بنانے کے لیے، ایف بی آر نے سخت ہدایات جاری کی ہیں۔

اس ضمن میں سمندری بندرگاہ، آف ڈاک ٹرمینل، ڈرائی پورٹ یا زمینی سرحدی مقام پر 6 ماہ بعد کم از کم شرائط کا معائنہ متعلقہ ریگولیٹری کلیکٹریٹ کرے گا، رپورٹ میں ہر شرط کی دستیابی کی واضح تفصیلات دی جائیں گی جیسا کہ قاعدہ 554 یا 554  اے میں بیان کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:ایف بی آر کی ٹیکس دہندگان کیخلاف ایف آئی آرز، گرفتاریاں اور ٹرائلز غیر قانونی قرار، سپریم کورٹ کا بڑا، تفصیلی فیصلہ جاری

اسی طرح اگر معائنہ رپورٹ میں کسی کمی یا خامی کی نشاندہی کی جائے تو متعلقہ ٹرمینل آپریٹر کو تحریری طور پر پندرہ دن میں اس کی تکمیل کا حکم دیا جائے گا، اور کلیکٹریٹ کو عمل درآمد رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی جائے گی۔

’اگر ٹرمینل آپریٹر مقررہ وقت میں ان شرائط پر عمل نہ کرے یا رپورٹ کا جواب نہ دے، تو ریگولیٹری کلیکٹر قاعدہ 553 کے تحت اور کسٹمز ایکٹ 1969 کے سیکشن 155F کے ساتھ رجسٹریشن کی معطلی یا منسوخی کی کارروائی کا آغاز کرے گا۔‘

ایف بی آر کے مطابق اگر رجسٹریشن معطل یا منسوخ کر دی جائے تو اسے اس صورت میں بحال کیا جائے گا جب ریگولیٹری کلیکٹر اطمینان کر لے کہ مطلوبہ شرائط پر مکمل عمل درآمد ہو چکا ہے، اسی طرحہر 6 ماہ بعد ریگولیٹری کلیکٹریٹ ہر ٹرمینل آپریٹر سے متعلق عمل درآمد رپورٹ ایف بی آر کو ارسال کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کویتی وزیر خارجہ کی ملاقات، علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال

ایران پر امریکی حملے کے انتباہ کے بعد تیل کی قیمتوں میں 6 فیصد سے زائد اضافہ

ڈیجیٹل پاکستان کی جانب پیشرفت: وزیراعظم کا ایک ہی ڈیجیٹل شناخت سے تمام سرکاری سہولیات فراہم کرنے کا اعلان

امریکا کی ایران کو سخت حملے کی دھمکی، مذاکرات کا دروازہ بھی کھلا رکھنے کا اعلان

وکٹ لینے کے بعد پرجوش جشن : آئی سی سی نے خرم شہزاد اور محمد عباس کو سزا سنادی

ویڈیو

امریکا کی ایران کو سخت حملے کی دھمکی، مذاکرات کا دروازہ بھی کھلا رکھنے کا اعلان

اسحاق ڈار اور کویتی وزیر خارجہ کے درمیان اہم ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

بنگلہ دیشی طلبہ کے لیے علامہ محمد اقبال اسکالرشپ پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز

کالم / تجزیہ

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

اے ٹی ایم مشین 

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی