غزہ جنگ بندی سے متعلق اسرائیلی مؤقف میں نرمی، معاہدہ ممکن قرار

جمعرات 17 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق بات چیت میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، اسرائیل کے ایک سینئر اہلکار نے امکان ظاہر کیا ہے کہ قیدیوں کا معاہدہ اور جنگ بندی ’امکان سے زیادہ ممکن‘ ہو چکی ہے، اگرچہ جنگ کے مکمل خاتمے پر اب بھی فریقین کے درمیان فاصلہ موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں:زخم خوردہ مگر پسپا نہیں، حماس کی مہلک گوریلا جنگ جاری

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق اہلکار نے ایک بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ قیدیوں کی واپسی کا معاہدہ دسترس میں ہے، لیکن یہ مذاکرات نہایت پیچیدہ اور طویل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کوئی حتمی ٹائم لائن دینا ممکن نہیں، تاہم موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے امید کی جا سکتی ہے کہ بات آگے بڑھے گی۔

اہلکار نے تصدیق کی کہ اسرائیل نے جنگ بندی کی صورت میں غزہ سے اپنی کچھ فوجیں نکالنے پر اتفاق کیا ہے۔ رفح اور موراگ کوریڈور جیسے علاقوں میں فوجی سرگرمیوں میں کمی لائی گئی ہے، جو حماس کے مطالبات میں شامل تھا۔

یہ بھی پڑھیں:شمالی غزہ: القسام بریگیڈز سے لڑائی کے دوران 3 اسرائیلی فوجی ہلاک

اہلکار کے مطابق ان علاقوں میں موجودگی محدود کرتے ہوئے اسرائیلی فوج نے اپنی پوزیشنز کو پچھلی جنگ بندی کی لائنوں تک محدود کیا ہے۔

ادھر اسرائیلی فوج کے سربراہ ایئل زامیر نے کہا ہے کہ موجودہ مذاکرات ایک ’نکاتی موڑ‘ پر ہیں اور اگر قیدیوں کے تبادلے پر کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو اسرائیل فوجی کارروائی میں تیزی لا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئندہ چند روز فیصلہ کن ہوں گے کہ آیا معاہدہ ممکن ہے یا نہیں۔

رائٹرز کے مطابق قیدیوں کے تبادلے کی فہرست میں 10 زندہ یرغمالی اور 18 ہلاک شدگان کی باقیات شامل ہیں، جبکہ اسرائیل کی جانب سے پچاس حماس قیدیوں کو رہا کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

یہ بھی پڑھیں:فلسطینی نژاد امریکی شہری کا قتل: امریکا کا اسرائیل سے فوری تحقیقات کا مطالبہ

اس تمام پیشرفت کو دیکھتے ہوئے اسرائیلی حکام نے اس موقف کو دہرایا ہے کہ ہم جنگ پر مصر نہیں، جنگ کوئی مقصد نہیں بلکہ ذریعہ ہے، تاہم، مذاکرات میں اب بھی انسانی امداد کی تقسیم، سیز فائر کے مراحل، اور دیگر فنی امور پر اختلافات باقی ہیں۔

بین الاقوامی ثالثوں کی کوششوں سے یہ بات چیت آگے بڑھی ہے، اور اسرائیلی اہلکار کا کہنا ہے کہ اگر سب فریق سنجیدہ رہے تو معاہدہ قریب آ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟