40 اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی پر بنگلور میں خوف ہراس پھیل گیا

جمعہ 18 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلور میں جمعے کی صبح اس وقت خوف و ہراس پھیل گیا جب شہر کے کم از کم 40 پرائیویٹ اسکولوں کو ای میل کے ذریعے بم دھماکے کی دھمکی موصول ہوئی۔

ان ای میلز میں دعویٰ کیا گیا کہ اسکولوں کی کلاس رومز میں ٹی این ٹی بم نصب کیے گئے ہیں۔ ان ای میلز نے نہ صرف اسکول انتظامیہ بلکہ والدین، طلبا اور سیکیورٹی اداروں کو بھی شدید تشویش میں مبتلا کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی مسافر کا ’یادگار‘ ہوائی سفر، ممبئی سے بنگلورو تک وقت بیت الخلا میں گزرا

دھمکی آمیز ای میلز ایک ایسے نام سے بھیجی گئیں جس میں بھیجنے والے نے اپنا نام ’ Roadkill ‘ ظاہر کیا۔ ای میل آئی ڈی [email protected] استعمال کی گئی۔ دھمکی آمیز متن میں کہا گیا:

’میں تم سب کو مار ڈالوں گا ۔۔۔ مجھے بچوں کی لاشیں دیکھ کر خوشی ہو گی‘۔

اس غیر انسانی اور خوفناک دھمکی کے بعد اسکولوں نے فوری ردعمل دیا، بچوں کو کلاس رومز سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا اور والدین کو ہنگامی طور پر اطلاع دی گئی۔

بم ڈسپوزل اسکواڈ، مقامی پولیس اور انسداد دہشتگردی فورسز نے فوری طور پر اسکولوں کا محاصرہ کیا اور تلاشی مہم شروع کی۔

اب تک کی معلومات کے مطابق کسی بھی اسکول میں دھماکہ خیز مواد یا مشکوک چیز برآمد نہیں ہوئی۔ پولیس نے ان ای میلز کو جعلی اور فرضی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بظاہر یہ کسی شرپسند عنصر کی شرارت ہے، تاہم مکمل تحقیقات جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:دہلی میں پاکستانی سفارتکاروں کے ساتھ ناروا سلوک

بنگلور پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے میڈیا کو بتایا کہ ہم نے تمام اسکولوں سے موصولہ شکایات اکٹھی کر لی ہیں اور سائبر کرائم ونگ نے ای میل کی ٹریکنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ والدین سے گزارش ہے کہ وہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور پرامن رہیں۔

اسی دوران شہر کے کئی معروف اسکولوں نے بھی اپنی سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔

دھمکی کی اطلاع ملتے ہی اسکولوں میں بھگدڑ کا منظر دیکھنے کو ملا۔ کچھ والدین اپنے بچوں کو جلد از جلد گھر لے جانے کے لیے اسکولوں کے باہر پہنچ گئے۔ کچھ جگہوں پر سڑکوں پر ٹریفک جام بھی دیکھنے کو ملا۔

یہ صرف بنگلور تک محدود نہیں رہا۔ رپورٹ کے مطابق دہلی میں بھی اسی نوعیت کی ای میلز موصول ہوئیں، جس کے بعد وہاں کے چند اسکولوں میں بھی سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

تاحال کسی جگہ سے بھی کوئی دھماکہ خیز مواد نہیں ملا، لیکن پولیس نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ملک گیر سطح پر تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت میں ایک اور طیارہ حادثے سے بال بال بچ گیا

ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کو نشانہ بنانے کی ایسی جھوٹی دھمکیاں نفسیاتی جنگ کا حصہ ہو سکتی ہیں، اور ان کا مقصد عوام میں خوف پھیلانا ہوتا ہے۔ تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے عناصر کی شناخت کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے جا سکتے ہیں، اور اگر بھیجنے والے کا پتہ چل گیا تو اسے سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ابھی تک کسی گروپ نے ان دھمکیوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟