چین نے دریائے برہما پتر پر میگا ڈیم کی تعمیر شروع کر دی، بھارت پریشانی کا شکار

اتوار 20 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین نے ہفتے کے روز تبت سے گزرنے والی ندی پر ایک میگا ڈیم کی تعمیر کا آغاز کر دیا ہے، جس کی افتتاحی تقریب میں چینی وزیر اعظم لی کیانگ نے شرکت کی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ دریا تبت میں ’یارلُنگ سانگپو‘ اور بھارت میں ’برہما پتر‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت سندھ طاس معاہدے کو معمول کے طور پر بحال کرے، ترجمان دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ

بیجنگ نے دسمبر میں اس منصوبے کی منظوری دی تھی، جسے ملک کے کاربن نیوٹرل اہداف اور تبت میں اقتصادی ترقی سے جوڑا گیا ہے۔

چینی سرکاری خبررساں ایجنسی شنہوا کے مطابق اس منصوبے سے پیدا ہونے والی بجلی بنیادی طور پر دیگر علاقوں کو فراہم کی جائے گی، جب کہ تبت کی مقامی ضروریات بھی پوری کی جائیں گی۔

بھارت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ تعمیر مکمل ہونے کے بعد یہ ڈیم ممکنہ طور پر چین کے وسطی علاقے میں دریائے یانگسی پر قائم ریکارڈ ساز تھری گورجز ڈیم سے بھی بڑا ہو سکتا ہے، اور اس سے بھارت اور بنگلہ دیش کے لاکھوں افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔

شنہوا کے مطابق اس منصوبے کے تحت 5 ہائیڈرو پاور اسٹیشنز تعمیر کیے جائیں گے، جن پر مجموعی طور پر تقریباً 1.2 ٹریلین یوآن (یعنی 167.1 ارب امریکی ڈالر) کی لاگت آئے گی۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا بھارتی اقدام غیرقانونی قرار، پاکستان کا خیرمقدم

بھارت نے رواں سال جنوری میں اس منصوبے پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صورتِ حال پر نظر رکھے گا اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق چین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ دریائے برہما پتر کے زیریں علاقوں میں واقع ممالک کے مفادات کو متاثر نہ کرے۔

ادھر، چین کی وزارتِ خارجہ نے دسمبر میں کہا تھا کہ اس منصوبے کے زیریں علاقوں پر کوئی ’منفی اثرات‘ نہیں ہوں گے، اور چین ندی کے زیریں حصے میں واقع ممالک سے رابطے میں رہے گا۔

واضح رہے کہ بھارت اور چین، دونوں ایک دوسرے کے ہمسایہ اور حریف طاقتیں ہیں، جن کے درمیان ہزاروں کلومیٹر طویل سرحدی تنازعات موجود ہیں اور دونوں طرف ہزاروں فوجی تعینات ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟