برطانوی رکنِ پارلیمان کا اپنے ملک سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطالبہ

بدھ 23 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانوی پارلیمان کی سینیئر لیبر رکن اور ہاؤس آف کامنز کی خارجہ امور کمیٹی کی چیئرپرسن ایمیلی تھورن بیری نے کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ برطانیہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے۔

ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے تھورن بیری نے کہا کہ جب تک جنگ بندی اور کوئی طویل مدتی سیاسی حل نہیں نکلتا اسرائیل کی غزہ پر جاری جنگ جاری رہے گی، جس میں 7 اکتوبر 2023 سے اب تک 58 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: غزہ میں نسل کشی پر خاموش رہنے والا شریکِ جرم ہے، ترک صدر رجب طیب ایردوان

انہوں نے کہا کہ امن کا واحد راستہ یہی ہے کہ ایک محفوظ اسرائیلی ریاست کے ساتھ ایک تسلیم شدہ فلسطینی ریاست بھی ہو۔

تھورن بیری نے کہا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے مسئلہ فوراً حل نہیں ہوگا لیکن اس سے سیاسی تحریک کو تقویت ملے گی۔

انہوں نے تاریخی سیاق و سباق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ اور فرانس نے 100 سال پہلے مشرق وسطیٰ کو تقسیم کرنے والا خفیہ سائکس-پیکو معاہدہ کیا تھا اور اب یہ دونوں ممالک دوبارہ مل کر اہم اقدام کر سکتے ہیں۔

برطانوی ہاؤس آف کامنز کی خارجہ امور کمیٹی کی چیئرپرسن ایمیلی تھورن بیری

تھورن بیری نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ لیبر پارٹی کے سربراہ کیئر سٹارمر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا چاہتے ہیں لیکن سوال وقت کا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی بستیوں کو غیر قانونی قرار دینا چاہیے اور ان میں ملوث افراد پر پابندیاں لگائی جانی چاہییں۔

تھورن بیری نے کہا کہ برطانیہ کو امریکا کے ساتھ مل کر اسرائیل پر دباؤ ڈالنا چاہیے تاکہ کوئی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سیاسی حل نکالا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان کا غزہ میں فوری جنگ بندی اور مسئلہ کشمیر کے حل پر زور

واضح رہے کہ یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب کولمبیا میں حال ہی میں 30 ممالک پر مشتمل ایک کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس کا مقصد فلسطین پر اسرائیلی قبضے کا خاتمہ تھا۔ اس کانفرنس کو جنوبی افریقہ اور کولمبیا نے شروع کیا تھا اور اس میں برازیل، انڈونیشیا، اسپین اور قطر جیسے ممالک شامل ہو چکے ہیں۔

دوسری طرف تقریباً 60 لیبر اراکین پارلیمنٹ نے فلسطین کو تسلیم کرنے کے لیے حکومت پر دباؤ بڑھایا ہے۔ فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے حالیہ برطانیہ دورے میں بھی کہا تھا کہ دو ریاستی حل ہی مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کی راہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟