اسلام آباد میں گاڑیوں کے دھویں کی انسپکشن کا آغاز، ایس او پیز جاری

پیر 28 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی دارالحکومت میں گاڑیوں کے دھویں کی انسپکشن کے لیے اسلام آباد ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے وہیکل ایمیشن ٹیسٹنگ سسٹم کے ایس او پیز جاری کر دیے ہیں۔ نئے قواعد و ضوابط کے تحت سال 2022 یا اس کے بعد کے ماڈلز کی گاڑیوں کی ابتدائی طور پر انسپکشن نہیں کی جائے گی، جبکہ سال 2022 سے پہلے تمام ماڈلز کی گاڑیوں کی انسپکشن کو پہلے مرحلے میں لازمی قرار دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: جاپان سمیت دیگر ممالک سے کتنی گاڑیاں امپورٹ اور کتنی ایکسپورٹ کی جاتی ہیں؟

نئے ایس او پیز کے مطابق، گاڑیوں کے دھویں میں کاربن مونو آکسائیڈ کی مقدار 6 فیصد سے کم ہو تو گاڑی کو اسٹیکر جاری کیا جائے گا، جبکہ اگر کاربن مونو آکسائیڈ 6 فیصد سے زائد پائی گئی تو گاڑی کو وارننگ دی جائے گی۔

اسلام آباد ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ اسٹیکر نہ ہونے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ یہ ایس او پیز اسلام آباد ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے چیئرمین عرفان میمن کی منظوری کے بعد جاری کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق آج سے نافذ العمل ہو گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور سری لنکا کی مشترکہ فوجی مشق ’شیک ہینڈز II‘ کا تربیلا میں آغاز

شرح سود میں اضافے پر تاجر تنظیمیں مایوس، معاشی بحالی سے متصادم قرار دیدیا

ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیشکش کردی، صدر ٹرمپ تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں، ترجمان وائٹ ہاؤس

فیلڈ مارشل کو اللہ نے عزت دی، ایسا مقام پاکستان کو اس سے قبل کبھی نہیں ملا، گورنر پنجاب

سیکیورٹی فوسز نے فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کی پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش ناکام بنادی، طالبان چوکیاں تباہ

ویڈیو

پاکستانی فلم انڈسٹری کی بحالی کی کوششیں: شاندار ماضی، موجودہ زوال اور پنجاب حکومت کے بڑے فیصلے

خیبرپختونخوا حکومت آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہی، وفاق کے ساتھ بہتر تعلقات ہونے چاہییں، سابق گورنر حاجی غلام علی

کیا ایران امریکا مذاکرات بحال ہوں گے؟پاکستانی شہری کیا سوچتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

ٹرمپ کا بلف

ایران، امریکا مذاکرات: اعصاب کی جنگ کون جیتے گا؟

مذاکرات میں پاکستان اتنی دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟