کوہستان کے برف پوش پہاڑوں سے حیرت انگیز خبر، 28 سال بعد برف سے لاش برآمد

پیر 4 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کوہستان کے پہاڑی علاقے لیدی ویلی میں ایک مقامی شخص عمر خان کو گلیشیئر کے قریب سے ایک لاش ملی، جو بعد میں شناختی کارڈ کی مدد سے نصیر الدین نامی شخص کی نکلی۔ نصیر الدین 1997 میں اپنے بھائی کے ساتھ سفر کے دوران لاپتا ہوئے تھے۔ ان کے بھائی کثیر الدین کے مطابق وہ خاندانی دشمنی کی وجہ سے متبادل اور دشوار گزار راستوں سے سفر کرتے تھے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس وقت فائرنگ کی آواز سنائی دی، جس کے بعد نصیر الدین لاپتا ہو گئے۔ ممکنہ طور پر وہ گلیشیئر میں گر گئے تھے، اور ان کی لاش 28 برس بعد برف پگھلنے سے سامنے آئی۔

مزید پڑھیں:  اسکردو کے برف پوش پہاڑوں میں ریت کا سمندر، سرفہ رنگا کولڈ ڈیزرٹ

نصیرالدین ولد بہرام (قوم صالح خیل) کی نعش 28 سال بعد صحیح حالت میں برآمد ہوئی، نعش پر واسکٹ موجود تھی، اور جیب سے شناختی کارڈ بھی برآمد ہوا، جس سے ان کی شناخت ممکن ہوئی۔ حیرت انگیز طور پر نصیرالدین کی جیب میں موجود شناختی کارڈ اور دیگر سامان مکمل طور پر محفوظ حالت میں تھا، جس سے ان کی شناخت کی تصدیق ہوئی۔

مقامی افراد کے مطابق یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس نے پورے علاقے کو حیرت اور افسوس کی ملی جلی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک طرف 28 برس پہلے کھوئے ہوئے پیارے کی واپسی نے خاندان کو اندرونی سکون بخشا، تو دوسری جانب ان کے بچھڑنے کا غم دوبارہ تازہ ہو گیا۔ نصیرالدین کے اہلِ خانہ اطلاع ملنے پر فوراً موقع پر پہنچے، اور طویل صبر آزما انتظار کے بعد انہیں اپنے پیارے کی لاش دفنانے کا موقع مل گیا۔

مزید پڑھیں: شمالی علاقے برف سے سفید پوش، منجمد جھیلوں کا جادو بھی سر چڑھ کر بولنے لگا

ماہرین کے مطابق گلیشیئرز میں شدید سردی، نمی کی کمی اور آکسیجن کی غیر موجودگی کی وجہ سے لاشیں طویل عرصے تک محفوظ رہتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث آئندہ بھی ایسی دریافتیں ممکن ہیں، جو ماحولیاتی تبدیلی کا واضح اشارہ ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟