لاہور: ہڈیارا ڈرین کو زہریلے صنعتی کچرے سے پاک کرنے کا انقلابی منصوبہ کیا ہے؟

جمعرات 7 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں ماحول اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے ایک بڑا اورانقلابی قدم اٹھاتے ہوئے دریائے راوی میں گرنے والے 54 کلومیٹر طویل ہڈیارا ڈرین کو زہریلے صنعتی فضلے اور مضر صحت گندگی سے پاک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ محکموں اور ضلعی حکام کو اہداف دے دیے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے قائداعظم انڈسٹریل اسٹیٹ کے 50 سے زائد صنعتی یونٹس کو ستوکاتلہ ڈرین کے ذریعے ہڈیارا ڈرین میں کچرا پھینکنے سے روکنے کے فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ اسی طرح فیصل آباد کی صنعتوں کو شہری آبادی سے ہٹا کر انڈسٹریل اسٹیٹ میں منتقل کرنے اور سیالکوٹ میں چمڑا رنگنے والی فیکٹریوں کو مخصوص صنعتی علاقوں میں منتقل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: ’اب نتھیا گلی اپنے گھر جا کر دکھاؤ’ علی امین گنڈاپور نے مریم نواز شریف کو چیلنج کردیا

ماحولیاتی تحفظ کے ادارے (EPA) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عمران حامد شیخ نے اس سلسلے میں سیکریٹری صنعت پنجاب، ڈی جی ایل ڈی اے، اور پنجاب انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کو خط بھی ارسال کر دیے ہیں۔

خط میں واضح کیا گیا کہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی جانب سے ہڈیارا ڈرین میں زہریلا کچرا براہ راست یا بالواسطہ پھینکنے سے ماحولیات، انسانی صحت اور آبی حیات کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل EPA نے تجویز دی ہے کہ قائداعظم انڈسٹریل اسٹیٹ میں 10 ایکڑ پر مشتمل مشترکہ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ پر پیشرفت کی جائے۔ فیصل آباد میں رنگنے اور کپڑا بنانے والے کارخانوں کو ایم-3 انڈسٹریل اسٹیٹ میں منتقل کیا جائے۔

یاد رہے کہ ہڈیارا ڈرین کا کل فاصلہ 98 کلومیٹر ہے، جس میں سے 44 کلومیٹر بھارت میں اور 54 کلومیٹر پاکستان میں ہے۔ یہ نالا پہلے سیلابی پانی کے لیے قدرتی گزرگاہ تھا لیکن اب اسے صنعتی و گھریلو فضلے نے آلودہ کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں: مریم نواز شریف کی مسجد نبوی میں بچوں کو تعلیم، ویڈیو وائرل

ڈاکٹر عمران حامد شیخ کے مطابق پاکستان میں ہڈیارا ڈرین کے ساتھ 80 سے زائد صنعتیں موجود ہیں۔ اس نالے کا آلودہ پانی زرعی مقاصد اور سبزیوں کی کاشت کے لیے استعمال ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں دھاتیں اور خطرناک جراثیم سبزیوں اور پھلوں کے ذریعے انسانی جسم میں منتقل ہو رہے ہیں۔

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ پالک، بینگن جیسی سبزیاں ہڈیارا ڈرین کے زہریلے اجزاء کو جذب کر لیتی ہیں، جس سے جان لیوا بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔ خاص طور پر تانبے اور سیسے سے بننے والی دھاتیں سبزیوں میں شامل ہو کر انسانی صحت پر مہلک اثرات ڈال رہی ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ اس منصوبے میں تاخیر نہ کی جائے اور ماحولیاتی تحفظ کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو محفوظ اور صحت مند زندگی مہیا کی جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا کی پاکستان میں توانائی، معدنیات اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری میں دلچسپی

کوکین کوئین انمول عرف پنکی نے جب جیل میں من پسند لباس پہننے کی خواہش ظاہر کی تو کیا ہوا؟

ہنر مند نوجوان ہی پاکستان کی پائیدار ترقی کی ضمانت ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

انتخابات تک آزاد کشمیر میں رہوں گا، احتجاج ختم کرکے مذاکرات کیے جائیں، بلاول بھٹو

فرانس کا عالمی چیمپئن بننے کا خواب چکنا چور، اسپین فائنل میں پہنچ گیا

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!