وزیراعلیٰ مریم نواز کی ایک اور کامیابی، صوبہ 31 برس پرانے قرض سے آزاد ہوگیا

ہفتہ 9 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی حکمت عملی کے نتیجے میں صوبہ 31 سال پرانے ’کموڈٹی قرض‘ کے بوجھ سے آزاد ہوگیا، جو گندم کی مہنگی خریداری کے باعث پیدا ہوا تھا۔

رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2025 کو نیشنل بینک کو 13 ارب 90 کروڑ روپے کی آخری قسط ادا کرکے کمرشل بینکوں کا تمام کموڈٹی قرض مکمل طور پر ختم کردیا گیا۔ اس سے قبل ادائیگی میں تاخیر کے باعث پنجاب حکومت کو ہر ماہ 50 کروڑ روپے سود کی مد میں ادا کرنا پڑتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کی گندم کے کاشتکاروں کے لیے 100 ارب کے بلاسود قرض اور ٹارگٹڈ سبسڈی کی تجویز

گندم کی اوپن مارکیٹ ریٹ سے زیادہ قیمت پر خریداری نے مارکیٹ کا توازن بگاڑ دیا تھا، جس کے نتیجے میں آٹا اور روٹی کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئیں اور عوام کو مہنگائی کا براہ راست سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق جون 2022 میں یہ صوبائی گردشی قرض 630 ارب روپے تک پہنچ چکا تھا، جبکہ 2024 تک اس میں اضافہ ہوکر 1.15 کھرب روپے ہو جاتا، جو صوبے کے سالانہ بجٹ کا قریباً 35 فیصد بنتا۔

محکمہ خوراک ہر سال 35 سے 40 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدتا تھا، مگر اس پالیسی کا فائدہ صوبے کے 70 لاکھ کسانوں میں سے صرف 2 سے 4 لاکھ کسانوں کو ملتا، جبکہ ناجائز منافع خور مہنگی خریداری سے اربوں روپے کماتے رہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب کا گزشتہ 30 سال کا قرضہ صفر ہوگیا ہے، وزیراعلیٰ مریم نواز

وزیراعلیٰ مریم نواز نے یہ قرض اتارنے کے لیے جرات مندانہ منصوبہ بنایا، جس کے تحت عام سبسڈی کے بجائے تمام کسانوں اور زرعی شعبے کی مجموعی معاونت پر توجہ دی گئی۔ اس حکمت عملی کے تحت صوبائی بجٹ سے مجموعی طور پر 761 ارب روپے ادا کیے گئے، جن میں 733 ارب روپے اصل قرض اور 28 ارب روپے سود شامل تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟