اسرائیل فلسطینی ریاست کے قیام سے انکاری، نئے منصوبے کی منظوری دے دی

جمعرات 14 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیل نے فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنے کے لیے ایک نئے منصوبے کی منظوری دے دی۔

غیرملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلائل سموٹریچ نے اچانک مشرقی یروشلم کو مغربی کنارے سے الگ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں: دو ریاستی حل ہی امن کی کنجی ہے، نیویارک میں عالمی کانفرنس

وزیر خزانہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے فلسطینی ریاست کے قیام کا تصور ختم ہو جائےگا۔

اس منصوبے کے تحت مغربی کنارے اور یروشلم کے درمیان 3401 گھر اسرائیلی آبادکاروں کے لیے تعمیر کیے جائیں گے، جبکہ مکانات کی تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔

رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اس منصوبے کی بحالی کی حمایت کی ہے یا نہیں۔

یہ منصوبہ نیا نہیں ہے، بلکہ 2012 میں عالمی رہنماؤں اور اتحادیوں کی مخالفت کی وجہ سے اسے روک دیا گیا تھا، تاہم اب دوبارہ اس پر کام شروع ہونے کا امکان ہے جس پر عالمی سطح پر ردعمل متوقع ہے۔

فلسطینی وزیر خارجہ نے اس نئے آبادکاری منصوبے کو قتل عام، بے دخلی اور دیگر جرائم میں اضافے کا باعث قرار دیا ہے۔

اس سے پہلے اگست کے شروع میں اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ نے غزہ پر عسکری قبضے کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔

اس موقع پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے غزہ کے تمام علاقوں پر کنٹرول چاہتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ غزہ پر حکمرانی نہیں چاہتے اور اس کو سول حکومت کے حوالے کر دیں گے۔

نئے منصوبے کے تحت مغربی کنارے میں آبادکاری کی نگرانی کرنے والے ادارے پیس ناؤ نے بتایا ہے کہ وزارت ہاؤسنگ نے Maale Adumim میں 3300 گھروں کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرنے ہوں گے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ

ادارے کا کہنا ہے کہ ’ای 1‘ نامی یہ منصوبہ 2 ریاستی حل کے تمام امکانات کو ختم کر دے گا، اور حکومت تیزی سے ایسی سمت بڑھ رہی ہے جو تباہی کا باعث بنے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟