مصنوعی ذہانت کے دور میں کونسی 3 نوکریاں محفوظ رہیں گی؟

پیر 18 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جابز اینڈ اسکلز آسٹریلیا کی نئی رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت تقریباً ہر شعبے کو متاثر کرے گی تاہم زیادہ تر ملازمتیں مکمل طور پر ختم ہونے کے بجائے تبدیل ہو جائیں گی۔

رپورٹ کے مطابق دفتری کلرک، ریسپشنسٹ، بُک کیپرز، سیلز اور مارکیٹنگ پروفیشنلز، بزنس اینالسٹ اور پروگرامرز 2050 تک روزگار میں سب سے زیادہ کمی کا سامنا کریں گے۔ اس کے برعکس تعمیراتی مزدور، مہمان نوازی کے شعبے کے ورکرز، صفائی ستھرائی اور لانڈری کے کارکنان اور عوامی انتظامیہ میں نوکریوں میں اضافہ متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیے: کیا مصنوعی ذہانت فلموں کی ڈبنگ آسان اور حقیقی بنا دے گی؟

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تصور کہ اے آئی کام کی دنیا کو ختم کر دے گی، درست نہیں۔ اصل میں تقریباً تمام پیشے اس سے متاثر ہوں گے لیکن زیادہ تر میں تبدیلی آئے گی، خاتمہ نہیں ہوگا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ دفتری اور کلریکل کام، جو پہلے آٹومیشن سے محفوظ تھے، اب بڑی حد تک جینیریٹو اے آئی کے ذریعے کیے جا سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق نرسنگ، کنسٹرکشن اور ہاسپیٹالیٹی کے شعبے سب سے محفوظ ہیں جبکہ مارکیٹنگ، پروگرامنگ اور بُک کیپنگ سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے: کیا چینی ایپ ڈیپ سیک مصنوعی ذہانت کی دنیا میں انقلاب ہے؟

مزید یہ کہ تحقیق سے ظاہر ہوا کہ اگرچہ 2030 کی دہائی میں ملازمتوں میں اضافہ سست روی کا شکار ہوگا، لیکن 2040 کی دہائی میں ترقی کی رفتار تیز ہو جائے گی۔ 2050 تک آسٹریلیا میں اے آئی کے ساتھ زیادہ نوکریاں ہوں گی بہ نسبت اس دنیا کے جس میں اے آئی شامل نہ ہو۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ وائس ایکٹرز کی طلب 80 فیصد تک کم ہو چکی ہے، کیونکہ مواد کے لیے آوازیں اب اے آئی تیار کر رہی ہے۔ اسی طرح بڑی کمپنیوں نے کال سینٹر کے درجنوں ملازمین کو نکال کر چیٹ بوٹس تعینات کر دیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟