بھارتی دارالحکومت میں آوارہ کتوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا

جمعہ 22 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کی سپریم کورٹ نے دہلی این سی آر کی سڑکوں سے آوارہ کتوں کو ہٹانے کے سابقہ حکم میں ترمیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب یہ کتے مکمل طور پر پناہ گاہوں میں منتقل نہیں کیے جائیں گے بلکہ نس بندی، ویکسینیشن اور دیگر طبی اقدامات کے بعد دوبارہ انہی علاقے میں چھوڑ دیے جائیں گے جہاں سے انہیں پکڑا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ صرف وہ کتے جو جارحانہ رویے کے حامل ہوں یا ریبیز کے مرض میں مبتلا ہوں، انہیں دوبارہ سڑکوں پر چھوڑنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

عدالت نے حکم دیا کہ عوامی مقامات پر آوارہ کتوں کو کھلانے کی اجازت نہیں ہوگی اور اس مقصد کے لیے میونسپل وارڈز میں علیحدہ فیڈنگ زونز قائم کیے جائیں گے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی جبکہ دہلی میونسپل کارپوریشن کو ایک ہیلپ لائن شروع کرنے کی ہدایت دی گئی تاکہ شہری خلاف ورزیوں کی شکایات درج کروا سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: کالا جادو یا شرارت؟ دہلی کی عدالت میں ملزم کی انوکھی حرکت پر کارروائی معطل

3 رکنی بینچ جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس سندیپ مہتا اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل تھا، جس نے یہ بھی فیصلہ دیا کہ آوارہ کتوں کے حوالے سے ملک بھر میں زیر التوا مقدمات کو سپریم کورٹ میں منتقل کیا جائے تاکہ ایک قومی پالیسی تشکیل دی جا سکے۔ عدالت نے واضح کیا کہ جانوروں کی پیدائش پر قابو پانے کے موجودہ اصول یعنی انیمل برتھ کنٹرول رولز پر عمل درآمد کیا جائے گا، جن کے مطابق کتوں کو نس بندی کے بعد اسی علاقے میں واپس چھوڑنا لازمی ہے۔

پشوووں کے حقوق کی علمبردار تنظیم پیٹا انڈیا نے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج واقعی ہر کتے کا دن ہے، سابق وفاقی وزیر اور جانوروں کے حقوق کی کارکن مانیکا گاندھی نے بھی فیصلے کو سراہا لیکن مطالبہ کیا کہ عدالت کو یہ وضاحت کرنی چاہیے کہ ’جارحانہ کتے‘ سے مراد کیا ہے۔

مزید پڑھیں:لال قلعے کا قبضہ دلوایا جائے، مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے پڑپوتے کی بیوہ عدالت پہنچ گئی

تاہم نوئیڈا کے کچھ رہائشیوں نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کا پچھلا فیصلہ زیادہ مناسب تھا۔ خیال رہے کہ 11 اگست کو ایک اور بینچ نے بڑھتے ہوئے کتوں کے کاٹنے اور ریبیز کے کیسز کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم دیا تھا کہ دہلی این سی آر کے تمام آوارہ کتوں کو 8 ہفتوں کے اندر پناہ گاہوں میں منتقل کیا جائے اور اس مقصد کے لیے کم از کم 5 ہزار کتوں کے لیے شیلٹر ہومز بنائے جائیں۔ 2024 میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 37 لاکھ کتے کے کاٹنے اور 54 ریبیز سے اموات کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔

یہ معاملہ شدید تنقید اور عوامی دباؤ کے بعد دوبارہ زیرِ غور آیا، جس میں کہا گیا کہ نہ صرف اس فیصلے پر عملدرآمد مہنگا اور غیر مؤثر ہوگا بلکہ میونسپل اداروں کے محدود بجٹ اور سہولیات پر بھی شدید دباؤ پڑے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم