وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت کسٹم کے جانچ پڑتال اور تخمینہ کے نظام کی شفافیت اور جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیراعظم نے ہدایت دی کہ کسٹم کے نظام کو فیس لیس (Faceless) بنا کر کاروباری حضرات کے لیے سہولت فراہم کی جائے اور ملکی ریونیو میں اضافہ کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ جانچ پڑتال اور تخمینہ کے عمل میں درکار وقت کو کم سے کم کیا جائے اور انتظامی کارروائیوں میں موثر اصلاحات متعارف کرائی جائیں۔ وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ کسٹم اصلاحات کے موثر نفاذ کے لیے باہمی ہم آہنگی اور مربوط حکمت عملی کے تحت کام کریں، جبکہ کسٹم تخمینے پر نظر ثانی اپیلوں کا اختیار غیر جانبدار افسران کے سپرد کیا جائے۔
مزید پڑھیں: بھارت کو فاش غلطی کا خمیازہ ضرور بھگتنا ہوگا، وزیراعظم محمد شہباز شریف کا قوم سے خطاب
وزیراعظم نے کہا کہ معاشی اور تجارتی اصلاحات کے ذریعے کاروبار اور سرمایہ کاری میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور کسٹم نظام میں شفافیت اس کا لازمی جزو ہے۔ پورٹس پر بڑھتی ہوئی کارگو کی بروقت ترسیل کے لیے منظم منصوبہ بندی کی جائے تاکہ سامان جلد از جلد اپنی منزل تک پہنچے۔
اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی رسک مینیجمنٹ سسٹم جلد فعال ہو جائے گا، اور کسٹم سکینرز کے ذریعے جانچ پڑتال میں AI کے استعمال سے کسٹم کلیئرنس کے عمل میں وقت کی کمی واقع ہو رہی ہے۔ حکومت کی سمگلنگ کے خلاف موثر اقدامات کے نتیجے میں غیر قانونی اشیا کی ترسیل میں کمی اور قانونی کسٹم کلیئرنس میں اضافہ ہوا ہے۔













