انسدادِ دہشت گردی کی عدالت لاہور نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بھانجے اور علیمہ خان کے بیٹے شاہ ریز خان کو جناح ہاؤس حملہ کیس میں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
انسداد دہشتگردی عدالت لاہور کے جج منظر علی گل نے شاہ ریز خان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست پر فیصلہ سنایا، جو پہلے محفوظ کر لیا گیا تھا۔ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم جاری کیا۔
یہ بھی پڑھیں: علیمہ خان کا دوسرا بیٹا شیر شاہ خان بھی گرفتار
سماعت کے دوران شاہ ریز کے وکیل رانا مدثر عمر نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے کارکنان کو اکسانے کی کوشش کی، تاہم تفتیش کے دوران نہ کوئی شواہد ملے اور نہ ہی جیو فینسنگ سے ان کا اس مقدمے میں کوئی تعلق سامنے آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کے چالان اور ریکارڈ میں شاہ ریز کا کہیں ذکر موجود نہیں جبکہ کسی تفتیشی افسر نے بھی ان کے خلاف کوئی بیان قلم بند نہیں کیا۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شاہ ریز کو گرفتاری سے قبل تقریباً 28 ماہ تک اس کیس میں شامل تفتیش نہیں کیا گیا اور ان کی گرفتاری کا مقصد صرف ان کی والدہ علیمہ خان کو دباؤ میں لانا تھا، جو اپنے بھائی اور پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے آواز بلند کر رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس دوران شاہ ریز چترال میں موجود تھے اور اس حوالے سے گواہوں کے بیانِ حلفی بھی موجود ہیں۔ وکیل کے مطابق شاہ ریز اکسفورڈ یونیورسٹی کے طالب علم اور ایک کھلاڑی ہیں، جو بیرونِ ملک ایک ایونٹ میں شرکت کے لیے بھی تیار تھے۔
یہ بھی پڑھیں: علیمہ خان کے صاحبزادے شیرشاہ خان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا
یاد رہے کہ کچھ روز قبل علیمہ خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے بیٹے شاہ ریز کو مسلح افراد نے اغوا کرلیا، تاہم بعد ازاں پولیس نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کی اور بتایا کہ انہیں 9 مئی 2023 کے مقدمات میں حراست میں لیا گیا ہے۔













