دنیا کے آخری شمالی سفید گینڈے نایجن اور فاتُو کی کہانی

پیر 8 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا میں شمالی سفید گینڈے کی نسل اب معدومی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اور اس نوع کے صرف 2 زندہ جانور باقی رہ گئے ہیں۔ نایجن (Najin) اور فاتُو (Fatu) نامی یہ دونوں مادہ گینڈے اس وقت کینیا کے ایک محفوظ مقام پر 24 گھنٹے سخت نگرانی میں زندگی گزار رہے ہیں۔

ماضی میں شمالی سفید گینڈے افریقہ کے شمالی اور مشرقی حصوں میں بڑی تعداد میں پائے جاتے تھے، مگر غیر قانونی شکار، انسانی مداخلت اور قدرتی ماحول کی تباہی نے اس نایاب نوع کو ختم کر کے رکھ دیا۔ آج نایجن اور فاتُو نہ صرف اپنی نسل کی آخری نمائندہ ہیں بلکہ یہ انسانی سرگرمیوں کے اثرات اور فطرت کے تحفظ کی فوری ضرورت کو بھی ظاہر کرتی ہیں۔

مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ: افغانستان نے یوگینڈا کو 125 رنز سے شکست دے دی

چونکہ یہ دونوں نسل بڑھانے کے قابل نہیں، ماہرین نے جدید سائنسی طریقوں کا سہارا لیا ہے۔ مصنوعی تولید(IVF)، جینیاتی تحقیق اور بائیو بینکنگ جیسے اقدامات کے ذریعے ان کے ڈی این اے کو محفوظ بنایا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں اس نوع کو دوبارہ زندہ کیا جا سکے۔

عالمی سطح پر نایجن اور فاتُو کو امید اور بقا کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ ان کی حفاظت نہ صرف افریقہ بلکہ دنیا بھر کے لیے ایک مشترکہ ذمہ داری قرار دی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: کیا بابر اعظم نے اعظم خان کو گینڈا کہا؟

حیاتیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ فطرت اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے بغیر انسان کا اپنا وجود بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

نایجن اور فاتُو آج ایک سبق کی حیثیت رکھتے ہیں کہ اگر انسان محبت، علم اور تعاون کو یکجا کرے تو نایاب نوع کو بچایا جا سکتا ہے۔ ان کی زندگی دراصل ایک پیغام ہے کہ زمین پر موجود ہر مخلوق کی بقا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟