امریکی ریاست مشی گن کے شہر گرینڈ بلانک میں سابق میرین نے چرچ پر حملہ کر کے کم از کم 4 افراد کو ہلاک اور 8 کو زخمی کر دیا۔
پولیس کے مطابق 40 سالہ تھامس جیکب سینفورڈ نامی حملہ آور نے اپنی گاڑی چرچ کے مرکزی دروازوں سے ٹکرا دی اور پھر خودکار رائفل سے چرچ پر فائرنگ کردی اور عمارت کو آگ لگا دی۔ اس دوران سینکڑوں افراد چرچ میں موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا میں 70 سالہ سکھ بزرگ پر وحشیانہ حملہ، حالت تشویشناک
ابتدائی طور پر 2 افراد فائرنگ سے ہلاک ہوئے جبکہ 8 کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں جلنے والے چرچ کے ملبے سے مزید 2 لاشیں برآمد ہوئیں۔ پولیس چیف ولیم رینی کے مطابق مزید افراد لاپتا ہیں اور امکان ہے کہ چرچ کے ملبے سے مزید لاشیں بھی مل سکتی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے آگ لگانے کے لیے پٹرول کا استعمال کیا اور جائے وقوعہ سے کچھ دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا۔ ایف بی آئی نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
پولیس کے مطابق ہنگامی کال ملنے کے 30 سیکنڈ بعد 2 اہلکار موقع پر پہنچے اور فائرنگ کے تبادلے میں حملہ آور کو چرچ کے باہر ہلاک کر دیا۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق سینفورڈ 2004 سے 2008 تک میرین فورسز میں خدمات انجام دے چکا تھا اور عراق جنگ کا حصہ رہا۔
یہ بھی پڑھیے: سڈنی چرچ حملہ، زخمی پادری نے حملہ آور کو معاف کردیا
یہ واقعہ امریکا میں 2025 کا 324واں اجتماعی حملہ ہے۔ صرف 24 گھنٹوں کے دوران یہ تیسرا بڑا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے نارتھ کیرولائنا میں ایک اور میرین سابق فوجی نے 3 افراد کو قتل اور 5 کو زخمی کیا، جبکہ ٹیکساس میں ایک کیسینو میں فائرنگ سے 2 افراد ہلاک ہوئے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کو امریکا میں مسیحیوں پر ایک اور ہدف پر مبنی حملہ قرار دیا اور کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی تشدد کی لہر کو فوری ختم کرنا ہوگا۔














