ہم اس حقیقت سے کتنی بھی آنکھیں چرائیں مگر یہ بات سچ ہے کہ اس وطن عزیز میں ایک بار پھر پُرسے دینے کا موسم آ گیا ہے۔ غم و اندوہ کی جس کیفیت کا شکار ہم دو ہزار تیرہ تک رہے ،وہی واردات ایک بار پھر ہو چکی ہے۔ دہشت گردی کا گھن پھر ہمارے تن کو چاٹنے کے لئے تیار ہے اور ہماری ہتھیلی میں آنسوئوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ کوئی ایک واقعہ ہو تو اس پر خاموش رہا جا سکتا ہے لیکن اب تو واقعات کا تسلسل اور تواتر ہے جو ہمیں چین سے سونے نہیں دے رہا ۔ شاید ہماری اپنی ہی عاقبت نا اندیشیاں ہمارے سامنے آ رہی ہیں۔ چند سال پیشتر ہم سمجھتے تھے اب دشمن کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ اب رگوں میں پھیلا زہر زائل ہو چکا ہے۔ اب ہم تریاق دریافت کر چکے ہیں لیکن حقائق کچھ اور ہی گواہی دے رہے ہیں۔ وہ جو خدشے تھے، اب خطرہ بن چکے ہیں۔ وہ جو خوف تھے، اب عیاں ہو چکے ہیں۔ اب بات نہ ماضی کی غلط پالیسیوں کی ہے نہ حال کی درماندگی کی ہے۔ اب ہمیں ایک مخدوش مستقبل درپیش ہے جس میں نہ راستہ واضح ہے نہ منزل میسر ہے۔
ہم اس حقیقت سے کتنی بھی آنکھیں چرائیں مگر یہ بات سچ ہے کہ اس وطن عزیز میں ایک بار پھر پُرسے دینے کا موسم آ گیا ہے۔ غم و اندوہ کی جس کیفیت کا شکار ہم دو ہزار تیرہ تک رہے ،وہی واردات ایک بار پھر ہو چکی ہے۔ دہشت گردی کا گھن پھر ہمارے تن کو چاٹنے کے لئے تیار ہے اور ہماری ہتھیلی میں آنسوئوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ کوئی ایک واقعہ ہو تو اس پر خاموش رہا جا سکتا ہے لیکن اب تو واقعات کا تسلسل اور تواتر ہے جو ہمیں چین سے سونے نہیں دے رہا ۔ شاید ہماری اپنی ہی عاقبت نا اندیشیاں ہمارے سامنے آ رہی ہیں۔ چند سال پیشتر ہم سمجھتے تھے اب دشمن کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ اب رگوں میں پھیلا زہر زائل ہو چکا ہے۔ اب ہم تریاق دریافت کر چکے ہیں لیکن حقائق کچھ اور ہی گواہی دے رہے ہیں۔ وہ جو خدشے تھے، اب خطرہ بن چکے ہیں۔ وہ جو خوف تھے، اب عیاں ہو چکے ہیں۔ اب بات نہ ماضی کی غلط پالیسیوں کی ہے نہ حال کی درماندگی کی ہے۔ اب ہمیں ایک مخدوش مستقبل درپیش ہے جس میں نہ راستہ واضح ہے نہ منزل میسر ہے۔
پاکستان کے حالات ایسے موڑ پر پہلے کبھی نہیں پہنچے تھے۔ پہلے ہم نے جب فیصلہ کیا دہشت گردوں کی بیخ کنی کا اہتمام ہوا۔ رد الفساد سے لے کر ضرب عضب تک بہت آپریشن ہوئے۔ ہر آپریشن نے کامیابیاں حاصل کیں لیکن وقت نے بتایا کہ وہ کامرانیاں وقتی تھیں۔ وہ خوشیاں عارضی تھیں۔ یہ ناگ پھر سر اٹھانے لگتا ہے۔ اس دفعہ معاملہ بہت نازک ہے۔ ایک طرف آپریشن ناگزیر ہے، دوسری طرف خالی خزانہ قوم کا منہ چڑا رہا ہے۔ اب آپریشن کریں یا قرضے واپس کریں۔ اب آپریشن کریں یا غریب کیلئے روٹی سستی کریں۔ اب آپریشن کریں یا معیشت کو سنبھالا دیں۔ یہ تکلیف دہ فیصلہ اس سے پہلے کبھی درپیش نہیں تھا ۔ اب ہمیں ایک مختلف نوع کا فیصلہ درپیش ہے۔ موجودہ معاشی حالات میں اب جب غریب کا چولھا بجھ گیا ہے، جب فلاح کے سب وعدے خام ہو گئے ہیں تو ایسے میں مستقبل کی فکر کرنے کی فرصت کسے ہے۔ اب دو وقت کی روٹی کھائیں یا ملک بچائیں؟ اس سوال کے جواب میں لاکھوں سوال پوشیدہ ہیں اور ہر سوال کے دامن میں کانٹے ہی کانٹے ہیں۔ ببول کی فصل جب بوئیں گے تو انجام ایسے ہی نازک موڑ ہوں گے۔ اب جو فیصلہ کرنا ہے وہ آنکھیں بند کر کے تو نہیں ہو سکتا۔ وہ فیصلہ ریت میں سر دے کر تو ہو نہیں سکتا۔ وہ فیصلہ تعطل کا تو شکار نہیں ہو سکتا ہے۔ یہ فیصلہ ہمیں آج اور ابھی کرنا ہے۔ اب تاخیر کا ظلم مزید نہیں ہو سکتا۔ اب تدبیر کا ہنر ہی معاملات کی گرہ کھول سکتا ہے۔ اب حکمت کا کوئی دریچہ ہی اس گرداب سے نکال سکتا ہے۔اب وہ مرحلہ آ چکا ہے جب پیٹ پر پتھر باندھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اس نفرت کے عتاب کو ختم کئے بغیر کوئی حل نہیں۔ اب وقت نہیں ہے ماضی کی غلط پالیسیوں پر تنقید کا۔ اب وقت ہے یک جان ہو کر یک دل ہو کر ایک نئے عزم سے ان لائق ِنفرین قوتوں کو شکست دینے کا۔ یہ مرحلہ قوم کیلئے تکلیف دہ بھی ہوگا اور خوش کن بھی۔ خوش کن اس اعتبار سے کہ اب یہ جنگ آخری ہو گی اور تکلیف دہ اس لئے کہ ہمارے پاس خالی کیسے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے لیکن ظلم کی ان داستانوں کو بالآخر ختم کرنا ہو گا ورنہ یہ گھن سارے بدن کو چاٹ جائے گا۔ ریاست کی جڑیں کھوکھلی ہو جائیں گی۔ ہمارے پاس اب معذرت کے الفاظ کی گنجائش نہیں ہے۔ ہمارے دامن میں اب وضاحتوں اور مفاہمتوں کی جگہ نہیں ہے۔ اب ضرب کاری درکار ہے۔ ایسی ضرب جس سے اس وطن عزیز کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکے۔ جس سے نفرت کے مینار ہمیشہ کے لئے منہدم کئے جاسکیں ۔ جس سے یہ ملک امن کا گہوارہ بن سکے۔













