300 نئے طیاروں کی خریداری؛ ایئر انڈیا کے ایئر بس اور بوئنگ کے ساتھ مذاکرات جاری

جمعرات 16 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی فضائی کمپنی ایئر انڈیا نے ایئر بس اور بوئنگ کے ساتھ مزید وائیڈ باڈی طیاروں کی خریداری کے لیے مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔

اس منصوبے کے تحت کمپنی اپنے مجوزہ طیاروں کی خریداری کو بڑھا کر 300 طیاروں تک لے جانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پیشرفت ٹاٹا گروپ کی زیرِ قیادت کمپنی کی بحالی کے عمل میں ایک بڑی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایئر انڈیا کی پروازوں میں بار بار فنی مسائل، مسافروں کا اعتماد متزلزل

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں اب 80 سے 100 وائیڈ باڈی طیارے شامل کیے گئے ہیں، جو اس سے قبل 200 نیرو باڈی اور 25 سے 30 وائیڈ باڈی طیاروں کے حوالے سے جاری بات چیت میں اضافہ ہے۔

ایئر بس کمپنی نے کہا کہ وہ صارفین کے ساتھ جاری یا ممکنہ خفیہ مذاکرات پر تبصرہ نہیں کرتی۔ ایئرانڈیا اور بوئنگ نے تاحال اس حوالے سے کوئی ردعمل نہیں دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایئر انڈیا، ایئر بس اور بوئنگ کے ساتھ ایک بڑی خریداری کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستانی فضائی حدود کی بندش: ایئر انڈیا کا امریکا کے لیے فضائی سروس معطل کرنے کا اعلان

جس میں تقریباً 200 اضافی نیرو باڈی طیارے شامل ہیں، اس سے قبل مارچ میں 25 سے 30 وائیڈ باڈی طیاروں کی خریداری پر بھی بات چیت ہو چکی تھی۔

ٹاٹا گروپ کے تحت ایئر انڈیا کو ایک جدید بین الاقوامی ایئرلائن کے طور پر دوبارہ برانڈ کرنے کے منصوبے کے مطابق، کمپنی اب تقریباً 300 نئے طیارے حاصل کرنے پر غور کر رہی ہے۔

یہ واضح نہیں کہ ان میں کتنے طیارے حتمی آرڈر ہوں گے اور کتنے اختیارات کی صورت میں شامل ہوں گے۔

مزید پڑھیں: ایئر انڈیا حادثے میں نیا موڑ: طیارے کے تباہی کی ایک اور وجہ سامنے آگئی

ممکنہ طور پر یہ آرڈر دوبارہ ایئر بس اور بوئنگ کے درمیان تقسیم ہوگا، تاہم یہ فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔

ایئر انڈیا یہ قدم اس وقت اٹھا رہی ہے جب وہ جون میں احمد آباد میں ہونے والے بوئنگ 787 کے حادثے کے بعد اپنے ساکھ کو بہتر بنانے کی کوشش کررہی ہے، جس میں 260 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟