سپریم کورٹ میں سپر ٹیکس کیس، دلائل مکمل، سماعت پیر تک ملتوی

جمعہ 17 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ میں سپر ٹیکس سے متعلق مختلف درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 5 رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس اطہر من اللہ بھی شامل تھے۔

وکیل اعجاز احمد زاہد کے دلائل مکمل

درخواست گزاران کے وکیل اعجاز احمد زاہد نے تفصیلی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر میں اس وقت 10 ٹوبیکو کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:’ سگریٹ چھوڑ دیں‘، اردوان کی درخواست پر اطالوی وزیراعظم کا دلچسپ جواب  

ان کے مطابق ایک سگریٹ کی ڈبی جس کی قیمت 173 روپے ہے، اس پر 44 روپے ٹیکس عائد ہے، جبکہ 77 روپے کی ڈبی پر بھی 44 روپے ٹیکس لگایا جا رہا ہے، یوں فی پیکٹ صرف 33 روپے منافع بچتا ہے۔

ایف بی آر کا موقف تبدیل، وکیل کا اعتراض

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایف بی آر کے وکلا نے دلائل کے دوران ایک ٹیبل پیش کی اور اپنا موقف تبدیل کر لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹوبیکو کی قیمت پاکستان ٹوبیکو کمپنی کنٹرول کرتی ہے، اور موجودہ قانونی فریم ورک میں رہتے ہوئے ان کے لیے ونڈ فال ٹیکس ادا کرنا ممکن نہیں۔

بینچ کے ریمارکس

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ ہم مقدمے کے حقائق میں نہیں جائیں گے، آپ قانونی سوالات پر دلائل دیں۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ نے ٹیکس دینا ہے، وہ آپ کے نفع سے ہی ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آپ سارا ٹیکس خود نہیں دیتے، جو سگریٹ نوشی کرتے ہیں وہ بھی ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

آئینی نکات پر گفتگو

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ 26ویں ترمیم کے بعد ہم آئینی بینچ ہیں اور تمام آئینی مقدمات دیکھنے کے پابند ہیں۔ ہم کسی آئینی سوال کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم کے بعد سینیٹ میں زیادہ ٹیکنوکریٹس ہیں، اس لیے وہاں سے بہتر مشورے آ سکتے ہیں۔

ججز اور وکیل کے درمیان دلچسپ مکالمہ

جسٹس حسن اظہر رضوی نے وکیل سے کہا، ویسے آپ کی کمپنی کو داد دینی پڑے گی، اتنے کم منافع میں تین سو ملین روپے کما رہی ہے، یہ واقعی قابلِ تعریف ہے۔

یہ بھی پڑھیں:برطانیہ میں ڈسپوزایبل ویپس پر پابندی کیوں عائد کی گئی؟

اس پر وکیل اعجاز احمد زاہد نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ہم پر آئی ایم ایف کا دباؤ تھا۔

ایکسپورٹ اور اسمگلنگ پر سوالات

جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا اگر آپ کی سگریٹ افغانستان برآمد ہو تو پھر کیا ہوگا؟

وکیل نے جواب دیا، اگر کسی اور ملک کی سگریٹ برآمد ہوتی ہے تو میں ذمہ دار نہیں۔

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ مال ایکسائز افسر کے سامنے باہر جاتا ہے، اگر مالیاتی خسارہ ختم کرنا ہے تو وہاں سے کریں جہاں سے لیکج ہے۔

سماعت ملتوی

وکیل اعجاز احمد زاہد کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے کیس کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان کی موجودہ ٹیسٹ ٹیم گزشتہ 50 برس کی بدترین ٹیم قرار؟

موبائل فون کا جھگڑا خاندان کو لے ڈوبا، نوجوان کو بچاتے والدین بھی پہاڑی سے گر کر ہلاک، ویڈیو وائرل

کینیڈا میں گوردوارے پر حملہ، مذہبی پیشوا سمیت 2 افراد زخمی، ملزم گرفتار

پاکستان اور ملائیشیا کا انسداد دہشتگردی و منشیات کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق

میانمار میں بدھ عبادت گاہ پر فوجی فضائی حملہ، 14 افراد ہلاک، 20 زخمی

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘