پی ٹی آئی نے اسلام آباد آنے کی کوشش کی تو اس بار سخت جواب دیا جائےگا، رانا ثنااللہ کا انتباہ

منگل 21 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کوشش کرکے دیکھ لے اس بار اسلام آباد نہیں آ سکتی، ایسی کسی بھی کوشش کا سخت جواب دیا جائےگا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف اس بار اٹک پل بھی کراس نہیں کر سکے گی، پچھلی بار جو خامیاں رہ گئی تھیں اس بار دور کرلی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے جھنڈے کی جگہ پی ٹی آئی کا جھنڈا، نو منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی تنقید کی زد میں

انہوں نے کہاکہ عمران خان انتظار کررہے تھے کہ ملک میں انارکی پھیلے اور افراتفری ہو لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ بات چیت کرنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے لیکن پی ٹی آئی اس کے لیے سنجیدہ ہی نہیں۔

رانا ثنااللہ نے کہاکہ پی ٹی آئی کی قیادت اگر عمران خان سے ملاقات کرنا چاہتی ہے تو اس پر ہم سے براہ راست بات چیت کی جائے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کو اس بار ڈی چوک تو دور کی بات، اسلام آباد کی حدود میں بھی نہیں آنے دیا جائےگا۔

واضح رہے کہ خیبرپختونخوا کے نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر انہیں عمران خان سے ملاقات نہ کرنے دی گئی تو وہ عوامی تحریک شروع کردیں گے۔

قبل ازیں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہاکہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حالیہ طرز عمل اور بیانات پر اٹھنے والے شکوک و شبہات بلاجواز نہیں ہیں، کیونکہ اسلام آباد پر چڑھائی کرنے والے پی ٹی آئی کے دستے کی قیادت خود سہیل آفریدی کر چکے ہیں۔

رانا ثنااللہ نے کہاکہ اسلام آباد پر حملہ آور گروہ کی سربراہی کے شواہد موجود ہیں اور اسی بنیاد پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پر سوالات اٹھائے گئے۔

ان کے بقول سہیل آفریدی نے اپنی تقاریر میں آئین یا قانون کی کسی شق کا حوالہ نہیں دیا اور نہ ہی اب تک صوبے کی ترقی یا عوامی فلاح کے حوالے سے کوئی جامع منصوبہ پیش کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی خود اسلام آباد پر چڑھائی کرچکے، ان پر شکوک و شبہات بلاجواز نہیں، رانا ثنااللہ

رانا ثنااللہ نے کہاکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے غیر سنجیدہ رویے کا جواب وہی خود دے سکتے ہیں۔ اگر صوبائی حکومت کسی جرگے کے انعقاد کا فیصلہ کر رہی ہے تو وفاق کو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ محمود خان اچکزئی سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کے حامی ہیں، اور اگر جرگے میں کوئی مثبت پیش رفت ہوتی ہے تو اس کے نتائج وفاقی حکومت تک پہنچائے جائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی: امریکا اسے کیسے نافذ کر سکتا ہے؟

ایران امریکا مذاکرات کی بحالی کا امکان، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی

اسلام آباد میں کیا دیکھوں اور فارغ وقت کہاں گزاروں؟ امریکی صحافی نے پاکستانیوں سے تجاویز مانگ لیں

مالی سال 2026 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کی توقع، آئی ایم ایف

حد سے زیادہ دعوے، کمزور نتائج: نیتن یاہو کو جنگ بندی پر شدید ردِعمل کا سامنا

ویڈیو

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا کرسکتا ہے؟

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا