غزہ کھنڈرات میں امید کی علامت، ’دادی‘ جو ملبے میں خاندان اور حوصلے کو زندہ رکھے ہوئے ہے

پیر 27 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جنگ سے تباہ شدہ غزہ کے کھنڈرات میں 62 سالہ ہیام مقداد اپنے ننھے پوتے پوتیوں کے ساتھ زندگی کی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ بغیر جوتوں کے، گرد آلود پاؤں لیے، بچے ہر روز اپنی دادی کے ساتھ پانی کی تلاش میں ملبے کے ڈھیر عبور کرتے ہیں۔

ہیام مقداد کا کہنا ہے کہ اب بچوں کی خواہش اسکول یا پارک جانے کی نہیں بلکہ کھانا یا پانی تلاش کرنے کی ہے۔ بچوں کے خواب ختم ہو گئے ہیں، وہ اب ملبے پر کھیلتے ہیں۔

جنگ نے مقداد کا گھر اور کئی عزیز چھین لیے۔ 10 اکتوبر کو امریکی ثالثی سے جنگ بندی کے بعد وہ اپنے تباہ شدہ مکان کے ملبے پر واپس آئیں اور ایک خیمہ نصب کیا تاکہ زندگی کسی طرح چلتی رہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنگ بندی کی خبر سن کر ایک آنسو خوشی کا اور ایک غم کا بہا۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی معاہدہ: امریکن ایئرلائنز کا اسرائیل کے لیے فضائی آپریشن دوبارہ شروع کرنے کا اعلان

ہیام مقداد روز صبح اپنے بچوں کے لیے کھانے کا بندوبست کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہمارے پاس نہ پیسے ہیں، نہ سبزیاں، نہ بجلی لیکن پھر بھی میں امید نہیں چھوڑتی۔

اقوام متحدہ کے مطابق 2 سالہ جنگ میں غزہ کی 75 فیصد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں اور 61 ملین ٹن ملبہ علاقے میں پھیلا ہوا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے حال ہی میں کہا کہ جنگ بندی کے باوجود غزہ میں انسانی امداد کی صورتحال میں کوئی نمایاں بہتری نہیں آئی۔

رات کے اندھیرے میں جب بجلی نہ ہو تو مقداد ایک موم بتی جلا کر بچوں کو سناتی ہیں کہ ایک دن امن ضرور واپس آئے گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ زندگی واپس آئے، چاہے تھوڑی ہی کیوں نہ ہو۔ امید ابھی باقی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟