پنجاب کے بعد بلوچستان میں بھی منارٹی کارڈ کا اجرا، اقلیتوں کو الگ کیوں کیا جا رہا ہے؟

جمعرات 30 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پنجاب میں اقلیتی برادری کے لیے متعارف کرائے گئے مالی معاونتی پروگرام کے بعد بلوچستان حکومت نے بھی صوبے میں اقلیتوں کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے ’پیپلز منارٹی کارڈ‘ کے اجرا کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کارڈ کے ذریعے اقلیتی خاندانوں کو صحت، تعلیم، روزگار اور چھوٹے کاروبار کے شعبوں میں سہولتیں فراہم کی جائیں گی، جبکہ کم آمدنی والے گھرانوں کو مرحلہ وار مالی امداد بھی دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ ن کی بلوچستان سے اقلیتی نشست کا تنازعہ سپریم کورٹ پہنچ گیا

اس سلسلے میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی سربراہی میں ہونے والے مشاورتی اجلاس میں پروگرام کے ابتدائی فریم ورک کی منظوری دی گئی۔

حکومت نے رواں مالی سال منارٹی انڈومنٹ فنڈ کے لیے 50 کروڑ روپے مختص کیے ہیں، جبکہ آئندہ مالی سال میں اس بجٹ کو ایک ارب روپے تک بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر کہا کہ اقلیتوں کی فلاح و بہبود اور ان کے حقوق کا تحفظ حکومت بلوچستان کی اولین ترجیح ہے۔ ان کے مطابق، پیپلز منارٹی کارڈ بلوچستان میں سماجی ہم آہنگی اور مساوات کے فروغ کا عملی قدم ثابت ہوگا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پروگرام کے شفاف استعمال کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرایا جائے گا، جبکہ پالیسی کی حتمی تشکیل اقلیتی نمائندوں کی مشاورت سے کی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: حکومت بلوچستان کا ’ہنگلاج ماتا مندر‘ کو عالمی ٹورازم سائٹ قرار دینے کا فیصلہ

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2023 میں بلوچستان میں اقلیتی برادری صوبے کی مجموعی آبادی کا تقریباً ایک فیصد ہے، جن میں سے بیشتر افراد معاشی طور پر کمزور اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

ہندو پنچایت کے سابق صدر راج کمار نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت کے فیصلے کو بروقت اور مؤثر اقدام قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں اقلیتی برادری کا تقریباً 40  فیصد حصہ معاشی لحاظ سے کمزور ہے۔

’پیپلز منارٹی کارڈ ان گھرانوں کے لیے امید کی نئی کرن ہے، اس پروگرام سے نہ صرف مالی سہارا ملے گا بلکہ ریاست پر اقلیتوں کا اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اقلیتوں اور مسلم برادری کے درمیان فاصلے کم کرنے میں مدد دے گا، جیسے پرچم میں سفید رنگ سبز کے ساتھ جڑا ہے، ویسے ہی دل بھی قریب آئیں گے اور بین المذاہب ہم آہنگی بڑھے گی۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں غیر مسلم اقلیتوں کی شادی اور طلاق کی رجسٹریشن کیسے ہوتی ہے؟

ماہرین کے مطابق بلوچستان میں پیپلز منارٹی کارڈ کا اجرا فلاحی ریاستی ماڈل کو صوبائی سطح پر وسعت دینے کی ایک عملی مثال ہے۔

ان کے نزدیک، اگر فنڈز کے استعمال میں شفافیت برقرار رہی اور پالیسی پر تسلسل سے عمل جاری رہا، تو یہ پروگرام نہ صرف معاشی استحکام بلکہ سماجی ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور ریاستی اعتماد کے فروغ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان: منگلہ زرغون غر میں آپریشن کے دوران 35 سے زیادہ دہشتگرد ہلاک، 3 کمانڈرز گرفتار

ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہورہا ہے، اسے فوری اقدامات کرنا ہوں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے کوششیں جاری ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال

سعودی عرب میں ذوالحج کا چاند نظر آگیا، عیدالاضحیٰ 27 مئی کو منائی جائےگی

ویڈیو

چین سے امریکا اور ایران تک، دنیا کا پاکستان پر اعتماد، اسلام آباد کے شہریوں کی حکومت اور پاک فوج کو خراجِ تحسین

معذور افراد کو بااختیار بنانے کے لیے مین اسٹریم سوشل آرگنائزیشن مشن امریکا کی کوششیں

حکومت اور آئی ایم ایف کے مابین مذاکرات جاری، آئندہ مالی سال کا بجٹ کیسا تیار ہونے جا رہا ہے؟

کالم / تجزیہ

قدم قدم سوئے حرم

میڈیا اور پروپیگنڈا

جب محافظ ہی زہر فروشوں کے نگہبان بن جائیں