بریسٹ کینسر میں بیشتر مریضوں کو ریڈی ایشن کی ضرورت نہیں، تحقیق

جمعہ 7 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

 

ایک نئی بین الاقوامی تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ جدید علاجی ترقیوں کے باعث ابتدائی درجے کے بریسٹ کینسر میں مبتلا زیادہ تر خواتین کو ماسٹیکٹومی (چھاتی ہٹانے) کے بعد ریڈی ایشن کی ضرورت نہیں رہتی۔

یہ بھی پڑھیں:بریسٹ کینسر سے صحتیاب خواتین کو مرض دوبارہ لاحق ہونے کا خطرہ کتنا ہے؟ حوصلہ افزا تحقیق

تحقیق میں 1,600 سے زائد خواتین شامل تھیں جنہیں دوسرے درجے کے کینسر یا درمیانی نوعیت کے خطرات لاحق تھے۔ تمام خواتین کا کینسر زدہ ٹشو اور لمف نوڈز جراحی کے ذریعے ہٹایا گیا اور انہیں جدید اینٹی کینسر ادویات دی گئیں۔

مریضاؤں کو 2 گروپوں میں تقسیم کیا گیا، ایک گروپ کو ریڈی ایشن دی گئی جبکہ دوسرے کو نہیں۔ تقریباً 10 سال بعد دونوں گروپوں کی بقا کی شرح تقریباً یکساں رہی, ریڈی ایشن حاصل کرنے والی خواتین میں 81.4 فیصد اور بغیر ریڈی ایشن کے 81.9 فیصد۔

تحقیق کے سربراہ پروفیسر ایان کنکلر کے مطابق جدید علاج نے کینسر کے دوبارہ لاحق ہونے کے امکانات کو اتنا کم کر دیا ہے کہ زیادہ تر مریضوں کے لیے ریڈی ایشن کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

اگرچہ ریڈی ایشن سے سینے کی دیوار پر کینسر کے لوٹنے کا امکان معمولی حد تک کم ہوا، لیکن مجموعی نتائج میں کوئی نمایاں فرق نہیں دیکھا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کے وکیل شعیب شاہین پھیپھڑوں کے کینسر کا شکار،کیمو تھراپی جاری

ماہرین کے مطابق درمیانی خطرے والے مریضوں کے لیے اب علاج کی سمت زیادہ واضح ہو گئی ہے، تاہم زیادہ خطرے والے مریضوں کے لیے ریڈی ایشن اب بھی ضروری تصور کی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کراچی کا اسٹیڈیم لاہور سے بھی اچھا ہوگا، پی سی بی چیئرمین نے نیا پلان شیئر کردیا

پرتشدد مظاہرین کیخلاف بڑا فیصلہ، پولیس آرڈر ترمیمی بل پنجاب اسمبلی میں پیش

سونا پہنے بغیر شادی، دلہن نے نئی روایت قائم کردی

جنرل فیض حمید کیس: سابق آرمی چیف جنرل باجوہ کیخلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟

بوندی ساحل فائرنگ: حملہ آور افغان باپ بیٹے کی شناخت ہوگئی، 1998 سے آسٹریلیا میں مقیم تھے

ویڈیو

خیبر پختونخوا میں بھی افغان باشندوں کی واپسی کے لیے کارروائیاں شروع، کیا کے پی حکومت وفاق کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہو گئی؟

چارسدہ کا ماحول دوست سروس اسٹیشن: صفائی اور پانی کی بچت ایک ساتھ

پاؤں سے پینٹنگز بنانے والی گلگت بلتستان کی باہمت فنکارہ زہرا عباس کی بے مثال کہانی

کالم / تجزیہ

اگلی بار۔ ثاقب نثار

جرمنی کا ٹاؤن رائٹرز پروگرام پاکستان میں کیوں نہیں؟

شاعرِ مشرق اور مصورِ مشرق کی پتنگ بازی