کیڈٹ کالج وانا پر حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، شواہد مل گئے

جمعرات 13 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سیکیورٹی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ کیڈٹ کالج وانا پر ہونے والا حالیہ دہشت گرد حملہ افغانستان سے منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں خوارجی رہنما خوارجی زاہد نے کی، جب کہ حتمی منظوری خوارجی نورولی محسود نے دی۔

اطلاعات کے مطابق کیڈٹ کالج وانا پر حملہ کرنے والے تمام دہشت گرد افغان شہری تھے۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں دہشتگردوں کو جدید اسلحے کی فراہمی امن کے لیے خطرہ، پاکستان کا اقوام متحدہ میں انتباہ

دہشتگرد کارروائی سے جڑی ایک لیکڈ آڈیو فائل میں سنا جا سکتا ہے کہ خوارج ’جیش الہند‘ کا اردو میں نام لیتے ہوئے گفتگو کرتے ر ہے تا کہ ان کی اصل شناحت پر پردہ پڑا رہے۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ حملے میں مارے گئے افغان دہشتگردوں کی شناخت نے اس ضمن میں تمام شکوک و شبہات ختم کر دیے ہیں۔

ان دہشت گردوں کو افغانستان سے جدید اسلحہ فراہم کیا گیا تھا، جس میں امریکی ساختہ ہتھیار بھی شامل تھے۔

مزید پڑھیں: فتنہ الخوارج کیخلاف پاکستان کے فضائی حملے: گل بہادر گروپ کے 100 سے زائد دہشتگرد ہلاک

ذرائع کے مطابق خوارجی نورولی محسود کی ہدایت پر اس حملے کی ذمہ داری ’جیش‌الہند‘ کے نام سے قبول کی گئی تاکہ تحریک طالبان پاکستان (فتنہ الخوارج) پر سے توجہ ہٹائی جا سکے۔

اسی مقصد کے تحت حملے کے دوران بنائی گئی ویڈیو میں افغان دہشت گرد ’جیش‌الہند‘ کا نام لیتے رہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان، فتنہ الخوارج پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ پاکستان میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول نہ کریں تاکہ ان پر پاکستان اور دوست ممالک کی جانب سے سفارتی دباؤ نہ بڑھے۔

مزید پڑھیں:

سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ کیڈٹ کالج پر حملے کا بنیادی مقصد پاکستان میں سیکیورٹی خدشات میں اضافہ کرنا تھا، جس کی ہدایت بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘ کی جانب سے دی گئی تھی۔

ان کے مطابق حملے میں ہلاک ہونے والے افغان دہشت گردوں کی شناخت سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ ان کے روابط افغانستان میں موجود دہشت گردی کے ٹھکانوں سے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟