متحدہ عرب امارات کی وفاقی عدالت نے شادی شدہ خاتون سے نامناسب آن لائن رابطے کے الزام میں ایک نوجوان کو 3 ماہ قید کی سزا سنادی، جبکہ شواہد نہ ہونے پر خاتون کو مکمل طور پر بری کردیا۔
امارات الیوم کے مطابق عدالت نے قرار دیا کہ خاتون کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے کوئی تکنیکی تعلق ثابت نہیں ہوسکا۔
شوہر کی شکایت پر مقدمہ درج
مقدمے کا آغاز اس وقت ہوا جب خاتون کے شوہر نے پولیس کو اطلاع دی کہ اس کی بیوی اور ایک نوجوان کے درمیان انسٹاگرام اور اسنیپ چیٹ پر رومانوی پیغامات اور ذاتی تصاویر کا تبادلہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیے آن لائن عشق کا انجام، شادی کے بعد نوجوان کا دلہن کو پہچاننے سے انکار
تحقیقات کے مطابق رابطہ اُس سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے شروع ہوا جس کے ذریعے خاتون گھریلو مصنوعات فروخت کرتی تھیں، جو بعد میں جذباتی گفتگو میں تبدیل ہوگیا۔
ملزم کا مؤقف: خاتون کو طلاق یافتہ سمجھا
تحقیقات میں نوجوان نے پیغامات بھیجنے کا اعتراف کیا، مگر یہ مؤقف اختیار کیا کہ وہ خاتون کو طلاق یافتہ سمجھتا تھا اور اس کا مقصد شادی کرنا تھا۔
اس نے بتایا کہ گفتگو اس وقت بڑھی جب خاتون نے اپنے ازدواجی مسائل کا ذکر کیا۔
خاتون نے الزامات مسترد کردیے
خاتون نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے اس کے ملکیتی ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور یہ معاملہ گھریلو جھگڑوں کا شاخسانہ ہے۔
اس کے وکیل نے بھی عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ تکنیکی شواہد صفر ہیں اور شوہر کا مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے۔
عدالت: سزا صرف ٹھوس شواہد پر دی جا سکتی ہے
ریموٹ سماعت کے دوران دونوں فریقوں نے الزامات سے انکار کیا، لیکن عدالت نے قرار دیا کہ فوجداری مقدمات میں سزا دینے کے لیے ٹھوس، ناقابلِ تردید شواہد ضروری ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے آن لائن جیون ساتھی کی تلاش، سوہنا سپنا یا حقیقت؟، خاتون نے 3 ماہ میں 35 لاکھ کما لیے
عدالت نے کہا کہ خاتون کے خلاف کسی قسم کا تکنیکی یا ثبوتی ربط موجود نہیں لہٰذا انہیں فوجداری قانون کی دفعہ 212 کے تحت بری کیا جاتا ہے
نوجوان کو 3 ماہ قید
اس کے برعکس عدالت نے نوجوان کو اس کی ابتدائی تحقیقات میں اعترافی بیان، عدالت میں دی گئی وضاحت، اور شوہر کی گواہی کی بنیاد پر 3 ماہ جیل کی سزا سنائی۔
عدالت نے اس کا موبائل فون ضبط کرنے، متعلقہ ڈیٹا حذف کرنے اور عدالتی اخراجات ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔
نوجوان نے پوری کارروائی کے دوران یہی مؤقف رکھا کہ وہ خاتون کو طلاق یافتہ سمجھتا تھا اور اُس سے متعلق اس کی نیت غلط نہیں بلکہ شادی کی خواہش پر مبنی تھی۔














